Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala May 2022
Al-Risala May 2022

رَمی جمار کا سبق

Urdu · 2 min read

رمی جمار کا لفظی مطلب ہے، کنکری سے مارنا۔ رمی جمار یا رمی، حج سے متعلق ایک اسلامی عمل ہے۔ حج کرنے والادورانِ حج جمرات کے مقام پر تین علامتی شیطانوں کو کنکر مارتا ہے۔ یہ حج کا ایک رکن ہے۔ حج کے دنوں میں ذوالحجہ کی دس، گیارہ اور بارہ تاریخ کو یہ عمل کیا جاتا ہے، اس میں ہر حاجی پر لازم ہے کہ تین شیطانوں کو سات سات کنکر ترتیب وار مارے۔ یہ عمل اسلام میں پیغمبر ابراہیم علیہ السلام کی سنت کے طور پر جاری ہے۔

رمی جمار کی حیثیت پہلے بھی علامتی تھی، اور آج بھی ا س کی حیثیت علامتی ہے۔ رمی جمار کی حقیقت یہ ہے کہ جب کسی اسلامی عمل کے وقت شیطان آدمی کے دل میں وسوسہ ڈالے ، شیطان آدمی کو اسلامی عمل سے باز رکھنے کی کوشش کرے تو انسان اس وسوسے کو جان لے۔ وہ نئے ارادے کے ساتھ اپنے اسلامی عمل کو جاری رکھنے کا عزم کرے۔ رمی جمار کوئی مادی واقعہ نہیں ہے، بلکہ وہ اپنے ارادے کو زیادہ قوی کرنے کا ایک علامتی طریقہ ہے۔

رمی جمار کے وقت بظاہر حاجی علامتی شیطان کو کنکری مارتا ہے۔ لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ خود اپنے لیے فیصلے کا ایک اعلان ہے۔یہ فیصلہ کہ میں شیطان کو اپنے سے دور رکھوں گا۔ میں بری خواہش کو اپنے پاس آنے نہیں دوں گا۔ میں قول و عمل کی ہر برائی سے اپنے آپ کو پاک بناؤں گا۔ میں سماج کا ایک اچھا انسان بنوں گا۔ گھر کے اندر اور گھر کے باہر میں کسی کو شکایت کا موقع نہیں دوں گا۔ میں سماج میں ایک بے مسئلہ انسان (no problem person) بن کر رہوں گا، اور اگر کوئی برا عمل ہوجائے، تو فوراًتوبہ کروں گا۔

میں سماج میںایک نافع انسان (giver person) بن کر رہوں گا۔ مجھ سے دوسروں کو فائدہ پہنچے گا، نقصان نہیں۔ مجھ سے دوسروں کو خیر ملے گا، شر نہیں۔ میری زندگی خدا کی نسبت سے خدا رخی ہوگی، اورانسان کی نسبت سے انسان دوست ۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.