السلام علیکم ، آج (15.05.19)مجھے ایک گھرکے اندر خواتین کے درمیان درس کا موقع دیا گیا ،اس میں میرا موضوع تھا : پوسٹ رمضان دعوہ پلاننگ۔ اس موقع پر میں نے آپ کی کتاب "صوم رمضان "اور الرسالہ جون 2019سے پوائنٹس لیا، اور ٹھہراؤ کے ساتھ پُر اثر انداز میں ان کو بیان کیا۔ عورتوں نے پوانٹس اور انداز دونوںکو بہت پسند کیا۔اس گھر کی بڑی لڑکی، جو امریکا رہتی ہے، اس وقت آئی ہوئی تھی، اور پروگرام میں شریک تھیں۔وہ اس تقریر سے بہت زیادہ متاثر ہوئی۔ تقریر ختم ہونے کے بعد وہ بہ اصرارپوچھنےلگی کہ یہ کون عالم دین ہیں ، جو اتنے فطری انداز میں اسلام کی تعلیمات کو بتاتے ہیں۔
پھر اس خاتون نےآپ کی کتابوں کی خواہش کی، تاکہ وہ اس کا مطالعہ کرے، اور سنڈے لکچر سننے کے لیے انٹرنیٹ کا لنک پوچھا ۔ میں نے جب فیس بک کا لنک بتایاتو اس کو انھوں نےفوراً اپنی ڈائری میں نوٹ کرلیا۔ نیز قرآن کے انگریزی ترجمے کی کچھ نسخے کا بھی مانگے، تاکہ وہ ان کو امریکہ میں ڈسٹری بیوٹ کرے ۔کیونکہ وہاں اس کے انگریزی داں پڑوسی قرآن پڑھنا چاہتے ہیں۔ یہ خاتون انگریزی اور اردو دونوں زبانوں سے واقف ہے، اور دونوں زبانوں کی اچھی طرح گفتگو کرسکتی ہے۔ چنانچہ میں نے اس کو یہ کتابیں دیں: ماہنامہ الرسالہ جون 2019 ، انگریزی ترجمۂ قرآن، دی سیکرس گائڈ ، وومن بٹوین اسلام اینڈ ویسٹرن سوسائٹی، صوم رمضان (اردو) ۔ (ام اشہاد، عمر آباد، تامل ناڈو)
برصغیرکے بہت سے مرد اور عورتیں مغربی ملکوں میں رہتے ہیں۔ وہاں ان کے پڑوس میں ایسے لوگ رہتے ہیں، جو انگریزی داں ہیں۔ اسی کے ساتھ ان کو اسلام کو جاننے کا شوق ہے۔ اسلام کی تعلیمات اگر ان کے معروف اسلوب میں ان کو دی جائے،تو وہ بہت شوق سے خود بھی پڑھیں گے، اور دوسروں کو بھی پڑھنے کو دیں گے۔ یہ مسلمس ان ڈائسپورا (Muslims in diaspora) کے لیے بہت بڑا دعوتی موقع ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔