زندگی اپنی حقیقت کے اعتبار سے موت کا انتظار ہے، اور موت اپنی حقیقت کے اعتبار سے زندگی کے دوسرے دور کا آغاز ۔ زندگی کا یہ آغاز اور انجام انسان کو ہر لمحہ یاد دلا تا ہے کہ اس کے لیے رائٹ ٹریک (right track) پر چلنا کیا ہے، اور رائٹ ٹریک سے بھٹک جانا کیا ہے۔ غور وفکر سے زندگی اور موت کا جو درست نقطۂ نظر سمجھ میں آتا ہے، وہ یہ ہےکہ پیدائش سے موت تک کی زندگی تیاری کا مرحلہ ہے، اور موت کے بعد کی زندگی تیاری کے انجام کو پانے کا مرحلہ ہے۔
انسان اپنے موجودہ دورِ حیات میں ہر وقت انسانوں کے درمیان رہتا ہے۔ خواہ وہ اپنےگھر کے اندر ہو، یا گھر کے باہر۔ ہر حال میں وہ مردوں اور عورتوں کے درمیان ہے۔ اس دورِ حیات میں ہر وقت اس کو کسی نہ کسی عورت یا مرد سے سابقہ پیش آتا ہے۔ اس سے لوگوں کے درمیان انسانی تعلقات قائم ہوتے ہیں۔ یہی تعلقات انسان کے لیے فیصلہ کن ہیں۔ ان تعلقات کے درمیان آدمی روزانہ جس سلوک (behaviour) کا مظاہرہ کرتا ہے، اسی سے اس کی زندگی کا ریکارڈ تیار ہوتا ہے۔ اسی سلوک کے مطابق، اس کی شخصیت (personality) بنتی ہے۔ یہی شخصیت اصل انسان ہے۔ یہی شخصیت اس کا مستقبل ہے۔
ہر عورت اور مرد کوچاہیے کہ دیکھے کہ وہ صبح و شام لوگوں کے درمیان جس سلوک کا مظاہرہ کرتا ہے، وہ کیسا ہے۔ وہ تعمیری ہے یا تخریبی، وہ مثبت ہے یامنفی، وہ سچائی پر قائم ہے یا جھوٹ پر ۔ اس اندر جو شخصیت بن رہی ہے، وہ ایک دینے والی شخصیت (giver personality) ہے، یا لینے والی شخصیت (taker personality)۔ اس کی پرسنالٹی خیر خواہی پر مبنی پرسنالٹی ہے، یا استحصال (exploitation) پر مبنی پرسنالٹی۔کامیاب انسان وہ ہے، جو زندگی کی اس نوعیت کو سمجھے، اور اس کے مطابق زندگی گزارے۔زندگی کے اس سفر میں کامیابی کی یہ لازمی شرط ہے کہ آدمی پوری طرح معرفت والا انسان ہو۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.