Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Al-Risala May 2020
Al-Risala May 2020

موت کاانتظار

Urdu · 4 min read

زندگی ہر انسان کے لیے ایک انتظار ہے۔ یہ انتظار کاؤنٹ ڈاؤن کی تکمیل کا انتظار ہے۔ ہر انسان جواس دنیا میں پیدا ہوتا ہے،وہ متعین عمرکے ساتھ پیداہوتا ہے۔ پیدا ہوتے ہی ہر انسا ن کا کاؤنٹ ڈاؤن ٹائمر(countdown timer) بھی چلنے لگتاہے۔ مثلاً ایک شخص یکم جنوری 1901 کوپیدا ہوا ہے، اور اس کی عمر 70 سال لکھی ہوئی ہےتو کاؤنٹ ڈاؤن کا مطلب یہ ہے کہ ہر دن اس کی عمر میں ایک دن کم ہورہا ہے۔ مثلاً پیدا ہونے کے بعد پہلے دن اگر اس کی عمر 70 سال تھی تو اگلے سال اس کی عمرمیں سے 69 سال باقی رہیںگے، پھر اس کے بعد والے سال اس کی عمرمیں سےدو سال کم ہوکر68 سال باقی رہیں گے، اور سلسلہ چلتا رہے گا۔ یہاں تک کہ اس کی طبعی عمر ختم ہوجائے گی۔

موت ہر آدمی کا پیچھا کررہی ہے۔ہر روزانسان کی عمر کا ایک دن کم ہوجا تا ہے۔ تاہم بچپن اور جوانی کی عمر میںوہ اس سے غافل رہتا ہے۔ بالآخرقانونِ فطرت غالب آتا ہے۔ بڑھاپے میں جب اس کی طاقتیں گھٹ جاتی ہیں، تب اسے محسوس ہوتا ہے کہ اب بہر حال کچھ دنوں کے بعد وہ مرجائے گا۔ اس وقت وہ مجبور ہوتا ہے کہ سوچے کہ ’’مرنے کے بعد کیا ہونے والا ہے‘‘۔ اسے تلاش ہوتی ہے کہ وہ کوئی امید کی کرن پالے ،جو موت کے بعد آنے والے حالات میں اس کو روشنی دے سکے۔

بڑھاپا ہر آدمی کے لیے اِس بات کی خبر ہوتا ہے کہ موت قریب آگئی۔ اِس کے بعد جب اس کو بیماریاں لگتی ہیںتو وہ آدمی کو مزید جھنجھوڑنے کے لیے ہوتی ہیں۔ وہ اِس لیے ہوتی ہیں کہ آدمی اگر سورہا ہے تو وہ جاگ جائے۔ اور اگر وہ جاگ گیا ہے تو وہ اٹھ جائے، اور اگر وہ اٹھ گیا ہے تو وہ چلنے لگے۔ بڑھاپا اور بڑھاپے میں آنے والی کمزوری اور بیماری ہمیشہ اِس لیے آتی ہے کہ آدمی الرٹ ہوجائے۔ وہ موت سے پہلے موت کی تیاری کرنے لگے۔ وہ موت کے بعدآنے والے حالات پر سوچے اور اس کے مطابق، اپنی زندگی کی آخری منصوبہ بندی کرے۔ لیکن انسان واقعات سے سبق نہیں لیتا۔ بڑھاپا اور بیماری اُس کو موت کی خبر دیتے ہیں، لیکن وہ موت کے بارے میں سوچنے کے بجائے صرف علاج کے بارے میں سوچتا ہے۔ وہ ڈاکٹروں اور اسپتالوں کے پیچھے دوڑتا ہے، یہاںتک کہ وہ ناامیدی کے ساتھ مرجاتا ہے۔ دوبارہ جو چیز اُس کو ملتی ہے، وہ تندرستی نہیں ہے، بلکہ موت ہے۔

کاؤنٹ ڈاؤن کا یہ پراسس ہر آدمی کے ساتھ ہورہا ہے۔ہر دن جب سورج غروب ہوتا ہے تو عملاً وہ اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ اب آپ کی عمر کا ایک دن کم ہو چکا ہے۔ کم ہوتے ہوتے ، وہ لمحہ آجاتا ہے، جب کہ آپ کے پاس صرف ایک دن باقی رہتا ہے، اس باقی ماندہ ایک دن کو یا تو آپ استعمال کرلیجیے، یا اس بات کا انتظار کیجیے کہ وہ آخری دن آپ کی موت کا فیصلہ کن دن بن جائے۔

یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہر آدمی روزانہ اپنے آس پاس کے ماحول میں دیکھتاہے، لیکن کوئی آدمی اُس سے سبق نہیں لیتا۔ اِس معاملے میں ہر آدمی اندھا بنا ہوا ہے۔ وہ صرف اِس انتظار میں ہے کہ موت اس کی آنکھ کھولے۔ لیکن موت کے بعد آنکھ کاکھلنا، کسی عورت یا مرد کے کچھ کام آنے والا نہیں۔ زندگی کا یہ تصور بلاشبہ ایک لرزا دینے والا تصور ہے۔ کیوں کہ آپ کی عمر کا آخری دن بھی جب ختم ہوجائےتو اس کے بعد آپ خالی ہاتھ ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد آپ کے پاس اپنا کچھ باقی نہیں رہتا۔ کاؤنٹ ڈاؤن کا آخری دن یاد دلاتا ہے کہ اب وہ آخری لمحہ آگیا، جب کہ آپ بالکل اکیلے ہوجائیں گے۔ جب کہ ایک طرف آپ ہوں، اور دوسری طرف رب العالمین ہو۔

قرآن میں اس دن کے بارے میں آیا ہے: یَوْمَ یَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِینَ (83:6)۔ یعنی کاؤنٹ ڈاؤن کے ختم ہوتے ہی آدمی اپنے آپ کو اس ہستی کے سامنے پائےگا، جو اس کا خالق بھی ہے، اور اسی کے ساتھ اس کا محاسِب بھی۔ آدمی کو اگر کاؤنٹ ڈاؤن(countdown) کے اٹل قانون کا سچا احساس ہوجائے تو اس کی زندگی مکمل طور پر بدل جائے گی، وہ قیامت کے آنےسے پہلے اپنے آپ کو قیامت میں کھڑا ہوا پانےلگے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content