اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ موت سے غافل رہتے ہیں۔ حتی کہ ایک شخص کو مرتے ہوئے دیکھتے ہیں، پھر بھی انھیں موت کی یاد نہیں آتی۔ اس غفلت کا سبب یہ ہے کہ لوگ اللہ رب العالمین سے غافل ہیں، اس لیے وہ موت سے بھی غافل بنے ہوئے ہیں۔ اگر لوگوں کے اندر موت کی یاد کو زندہ کرنا ہےتو اس سے پہلے ان کے اندر اللہ پر یقین کو زندہ کرنا ہوگا۔ اللہ پر یقین کے بغیر لوگوں کے اندر موت کا زندہ یقین پیدا نہیں ہوسکتا۔ آج کل حالت یہ ہے کہ آپ کوئی کتاب پڑھیں، یا کسی مجلس میں شرکت کریں، ہر جگہ آپ کو دوسری دوسری باتیں تو سننے کو ملیں گی، لیکن اللہ پر زندہ یقین، نہ میر مجلس کے اندر ہوگا اور نہ حاضرینِ مجلس کے اندر ۔لوگ اللہ کے بارے میں صرف یہ جانتے ہیں کہ زبان سے لا الہ الا اللہ کہہ دیا جائے۔ مگر اس قسم کا قول ہرگز کافی نہیں۔ ضروری ہے کہ آپ کے اندر اللہ کا زندہ یقین ہو۔ اس کے بعد ہی آپ کے اندر موت کا زندہ یقین پایا جاسکتا ہے۔
آپ لوگوں سے ملیے،اور لوگوں کے پاس بیٹھ کر یا ان کی باتیں سن کر اندازہ کیجیے۔ آپ کو بہت جلد یہ حقیقت دریافت ہوگی کہ اللہ پر وہ یقین لوگوں کے دلوں میں موجود نہیں، جو قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے:إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِینَ إِذَا ذُکِرَ اللَّہُ وَجِلَتْ قُلُوبُہُمْ(8:2)۔یعنی ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جائیں ۔ اسی طرح آیۃ الکرسی کو زبانی یاد کرنے اور اس کو جاننے والے بہت ہیں، لیکن اس کے اِس لرزہ خیز الفاظ کو زندہ حقیقت کے طور پر دریافت کرنے والا شاید کوئی نہیںکہ وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ (2:255)۔ یعنی اس کی حکومت آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے:
His throne extends over the heavens and the earth.
جب لوگوں کے اندر اللہ رب العالمین پر زندہ یقین نہ ہو تو ان کےاندر موت اور آخرت پر زندہ یقین کہاں سے پیدا ہوگا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔