بڑھاپے کا دور اپنے امکانی استعمال کے اعتبار سے کسی انسان کے لیے خصوصی رحمت کا دور ہے۔ بڑھاپے کے دور میں عام طور پر جسم کمزور ہوجاتا ہے، لیکن انسان کے سوچنے کی طاقت کم و بیش باقی رہتی ہے۔ بڑھاپے کے دور میں انسان مشقت کا کام (hard work) نہیں کرسکتا۔ لیکن اس کے لیے ممکن رہتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے گزرے ہوئے لمحات کو لے کر سوچے، وہ اپنی زندگی کا محاسبہ (introspection) کرے۔وہ اپنے گزرے ہوئے لمحات پر غیر جانب دارانہ انداز میں سوچے۔
بڑھاپے میں کسی انسان کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ اس کے اندر ندامت(repentance) کا احساس جاگے۔ بڑھاپے کے دور میں ری پلاننگ کا کام عام طور پر مشکل ہوتا ہے، لیکن ری تھنکنگ کا عمل پوری طاقت کے ساتھ جاری ہوسکتا ہے۔ اگر کسی کی زندگی لمبی ہوجائے، اور وہ بڑھاپے کی عمر تک پہنچےتو اس کو چاہیے کہ وہ بڑھاپے کی عمر کو ایک موقع کے طور پر لے۔ وہ بڑھاپے کی عمر کو زیادہ سے زیادہ آخرت کی سوچ میں گزارے۔ وہ اپنے لمحات کو سچی توبہ میں گزارے۔ وہ قرآن و حدیث کا اس حیثیت سے مطالعہ کرے کہ قرآن و حدیث میں بڑھاپے کے دور کے لیے کیا نصیحت ملتی ہے۔ وہ اصحابِ رسول کے حالات کا مطالعہ کرکے یہ جانے کہ اصحابِ رسول نےاپنے بڑھاپے کے دور کو کس طرح گزارا۔ اصحابِ رسول امت کے لیے ہر اعتبار سے ماڈل ہیں۔ ہر مومن کو چاہیے کہ وہ اصحابِ رسول کی زندگی سے سبق لے، اور اپنی آخری عمر میں وہ کرے، جو وہ اپنی ابتدائی عمر میں نہ کرسکا۔
بڑھاپے کا دور افسوس میں گزارنے کے لیے نہیں ہے۔ بڑھاپے کا دور اس لیے ہےکہ اگر آدمی نے اپنے ابتدائی دور میں اپنی جسمانی طاقت کو زیادہ استعمال کیا،تو اب وہ سوچنے کی طاقت (intellectual power)کو زیادہ استعمال کرے۔ اپنی زندگی کے پچھلے دور میں اگر اس نے اپنی دنیا کو تعمیر کرنے کے لیے زیادہ دوڑ دھوپ کیا ہےتو بڑھاپے کی عمر میں وہ اپنی آخرت کی تعمیر کے لیے زیادہ سرگرداں ہوجائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.