قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے:وَمَنْ نُعَمِّرْہُ نُنَکِّسْہُ فِی الْخَلْقِ أَفَلَا یَعْقِلُونَ (36:68)۔ یعنی اور ہم جس کی عمر زیادہ کردیتے ہیں، اس کو اس کی پیدائش میں پیچھے لوٹا دیتے ہیںتو کیا وہ سمجھتے نہیں۔ خالق کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، انسان کا معاملہ یہ ہے کہ پیدا ہونے کے بعد انسان کا کاؤنٹ اپ (count-up) ہوتا ہے- بچپن، نوجوانی، جوانی، وغیرہ مراحل سے گزار کر وہ پختہ عمرتک پہنچتا ہے۔ پھر اس کا کاؤنٹ ڈاؤن (countdown)شروع ہوتا ہے۔ وہ طاقت سے بے طاقتی کی طرف اور جوانی سے بڑھاپے کی طرف سفر کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کا حال وہ ہوجاتا ہے، جس کی تصویر اس آیت میں بتائی گئی ہے: ثُمَّ نُخْرِجُکُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوا أَشُدَّکُمْ وَمِنْکُمْ مَنْ یُتَوَفَّى وَمِنْکُمْ مَنْ یُرَدُّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِکَیْلَا یَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا(22:5)۔ یعنی پھر ہم تم کو بچہ بنا کر باہر لاتے ہیں۔ پھر تاکہ تم اپنی پوری جوانی تک پہنچ جاؤ۔ اور تم میں سے کوئی شخص پہلے ہی مرجاتا ہے اور کوئی شخص بد ترین عمر تک پہنچا دیا جاتا ہے تاکہ وہ جان لینے کے بعد پھر کچھ نہ جانے۔
بچپن اورجوانی اور بڑھاپے میں انسان کے لیے سبق ہے۔ مگر انسان کی حالت یہ ہے کہ اس کو آنکھ اور ہاتھ پاؤں اور دوسری صلاحیتیں جو حاصل ہیں، ان کو پا کر وہ سرکش بن جاتا ہے۔ حالانکہ اگر وہ سوچے تو یہی واقعہ اس کی نصیحت کے لیے کافی ہوجائے کہ یہ صلاحیتیں اس کی اپنی بنائی ہوئی نہیں ہیں بلکہ خالق کے دینے سے اس کو ملی ہیں، اور جب دینے والا کوئی اور ہو تو اس نے جس طرح دیا ہے اسی طرح وہ ان کو واپس لے سکتا ہے۔
مزید یہ کہ بڑھاپے کی صورت میں اس امکان کی ایک جھلک عملاً بھی لوگوں کو دکھائی جا رہی ہے۔ آدمی جب زیادہ بوڑھا ہوتا ہے تو اس کی تمام طاقتیں بھی چھن جاتی ہیں۔ حتی کہ وہ دوبارہ ویسا ہی کمزور اور محتاج ہوجاتا ہے، جیسا کہ وہ اس وقت تھا جب کہ وہ ایک چھوٹا بچہ تھا۔ مگر انسان اتنا نادان ہے کہ اس کے باوجود وہ کوئی سبق نہیں لیتا۔ (9 ستمبر 2019)
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔