Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala May 2020
Al-Risala May 2020

فطرت کا نظام

Urdu · 2 min read

قرآن میںوالدین کا حقوق بیان کرتے ہوئے یہ بیان آیاہے:وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیَانِی صَغِیرًا (17:24)۔ یعنی اور کہو کہ اے رب، ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انھوں نے مجھے بچپن میں پالا۔ یہاں دعا کی تعلیم دیتے ہوئے فطرت کے ایک اصول کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ اصول فطرت کے ایک نظام کو بتاتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

خالق نے زندگی کا نظام اس طرح بنایا ہے کہ یہاں کچھ لوگ پیدا ہوتے ہیں، اور پھر بڑھاپے کے عمر کو پہنچ کر ختم ہوجاتے ہیں، اور کچھ دوسرے لوگ زندگی کے کار و بار کو سنبھالتے ہیں۔ تخلیق کے اس نظام میں ہر آدمی اپنی زندگی میں دو بار جسمانی ضعف (physical weakness) کا تجربہ کرتا ہے۔ پہلی بار بچپن کی زندگی میں ، اور دوسری بار بڑھاپے کے دور میں ۔ فطرت کے اس نظام کو درست طور پر چلانے کے لیے یہ اصول مقرر کیا گیا ہے کہ والدین اپنے بچوں کے ضعف کے زمانے میں ان کے ضعف کو سنبھالیں، اور بعد کو جو والدین اپنے بڑھاپے کی عمر کو پہنچیں، اور اس وقت بچے بڑی عمر کو پہنچ چکے ہوںتو بچے اپنے والدین کا سہارا بنیں۔

یہ دو طرفہ نظام تخلیق کی فطری ضرورت کی بنا پر ہے۔ ابتدائی عمر میں انسان کو اس کے والدین کی ضرورت ہوتی ہے، اور زیادہ عمر کو پہنچنے کے بعد والدین کے لیے ان کی اولاد ان کی ضرورت بن جاتی ہے۔ اس طرح تخلیقی نظام کے مطابق، دونوں کو موقع ملتا ہے کہ وہ کمزوری کے زمانے میں ایک دوسرے کے ضعف کا بدل بنیں۔

یہ صرف ایک دوسرے کا بدل (substitute) بننے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ایک دوسرے کو اپنا معلم (teacher) بنانے کا معاملہ ہے۔ بچےاپنے بڑوں کو یہ موقع دیتے ہیں کہ وہ کس طرح اپنے اندر اس صلاحیت کو پیدا کریں کہ وہ اپنے سماج کےکمزور لوگوں کے لیے ان کی کمزوری کا بدل بنیں۔ اسی طرح قوم کی نئی نسلوں کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ اپنے بڑوں کے تجربات سے کس طرح فائدہ اٹھائیں۔ گویا کہ یہ میوچول لرننگ (mutual learning)کا ایک فطری طریقہ ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content