میں یوپی کے ایک گاؤں میں 1925 میں پیدا ہوا۔ ہمارے گاؤں میں ایک قصاب تھا، جس کو بشیر قصاب کہا جاتا تھا۔ نوجوانی کی عمر میں مَیں نے وہاں ایک واقعہ دیکھا تھا، جو آج تک مجھے پوری طرح یاد ہے۔ میں نے دیکھا کہ بشیر قصاب ایک بکری لے کر آیا، اوروہ اپنے گھر کے عین دروازے تک پہنچ گیا۔ اب یہ منظر تھا کہ بکری پیچھے کی طرف جانے کے لیے پوری کوشش کررہی تھی، اور بشیر قصاب اس کو اپنے مضبوط ہاتھوں سے گھر کے اندر داخل کرنا چاہتا تھا۔ میں نے دیکھا کہ یہ معاملہ یہاں تک پہنچا کہ بکری کا آدھا جسم بشیرقصاب کے دروازہ کے اندر تھا، اور اس کا آدھا جسم گھر کے باہر، اور قریب تھا کہ بشیر قصاب کا مضبوط ہاتھ بکری کو گھر کے اندر داخل کردے۔
یہ منظر میں نے دیکھا تو مجھے اس واقعے میں ایک بوڑھے انسان کی تصویر نظر آئی۔ مجھے ایسا محسوس ہوا، جیسے بوڑھا انسان اپنی پوری طاقت سے باہر کی طرف جانا چاہتا ہے، لیکن قانونِ فطرت کا مضبوط ہاتھ اس کو اندر (بڑھاپے)کی طرف کھینچ رہا ہے۔ یہاں تک کہ اس نے بوڑھے انسان کو موت دروازے میں داخل کردیا۔ایسا داخلہ جس کے بعد واپسی ممکن نہ ہوگی۔یہ واقعہ ہر انسان کے ساتھ پیش آنے والا ہے، جو دنیا میں اپنی عمر پوری کرچکا ہو۔ اس وقت آدمی اندر جانے سے بچنا چاہتا ہے، مگر کسی کا مضبوط ہاتھ آخر کار اس کو اندر داخل کردیتا ہے۔ یہی وہ واقعہ ہے، جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:وَجَاءَتْ سَکْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِکَ مَا کُنْتَ مِنْہُ تَحِیدُ (50:19)۔ یعنی موت کی بےہوشی حق کے ساتھ آپہنچی، یہ وہی چیز ہے جس سے تو بھاگتا تھا۔
ہر آدمی کو موت کے دروازے پر پہنچنا ہے۔ عقل مند انسان وہ ہے،جس نے اس لمحے کے آنے سے پہلے اپنے بچا ؤ کا سامان تیار کرلیا، اور ہلاک ہونے والا وہ ہے، جو اس وقت جاگے جب کہ جاگنے کا وقت گزر چکا ہو۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اُس لمحے کی تیاری کرے ، نہ یہ کہ وہ اس سے بھاگنے کی لاحاصل کوشش کرے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔