Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Al-Risala May 2020
Al-Risala May 2020

لاک ڈاؤن، ایک بلیسنگ

Urdu · 3 min read

اللہ رب العالمین نے انسان کو پیدا کرکے زمین پر آباد کیا۔ اس کو ہر قسم کے مواقع فراہم کیے، اور پھر اس کو پوری آزادی دے دی۔ اب یہ انسان کااپنا اختیار ہے کہ وہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرکے اپنے آپ کو ابدی کامیابی کا مستحق بنائے، اور اگر وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتاہے تو اس کے لیے تخلیقی منصوبے کے مطابق ابدی ناکامی کے سوا کچھ اور مقدر نہیں۔

جدید صنعتی انقلاب کے بعد اللہ نے انسانوں کے لیے تمام نعمتوں کے دروازے کھول دیے۔ پہلے زمانے میں انسان صرف ضرورت پر زندگی گزارتا تھا۔ لیکن موجودہ دور کی سائنسی تہذیب نے لگزری(luxury)کے بے شمار سامان انسان کے لیے فراہم کردیے۔ یہ تمام بلیسنگز (blessings) انسان کے لیے بطورِ عطیہ تھے۔ مگر انسان نے ان کو بطور ِعطیہ ڈسکور نہیں کیا، بلکہ اس کے بجائے اس حصول کو اپنا نشانہ بنا لیا، جس کو آج اس طرح بیان کیا جاتاہے:

Work hard, party harder

اس کا مطلب ہے کہ محنت سے دولت کمانا، لیکن اس سے زیادہ محنت کے ساتھ لگزوریس لائف (luxurious life) گزارنا۔ لگزوریس آئٹم کا انفجار (explosion)اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک خدائی عطیہ ہے۔ یہ تمام آئٹم لائف سپورٹ سسٹم کے تحت وجود میں آئے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی آئٹم انسان خود سےپیدا نہیں کرسکتا۔ یہ پورا نظام خالق کی طرف سے انسان کے لیے یک طرفہ عطیے کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ عطیہ اپنے آپ میں اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان سنجیدہ ہو کر یہ سوچے کہ اس نے اِن نعمتوں کے مُعطِی (giver) کا اعتراف کیا ہے یا نہیں۔ مگر انسان اس حقیقت کو بھول کر جس راستے پر چلنے لگا، وہ یہ تھا کہ مثلاً کسی نے اس قسم کی کتاب لکھ ڈالی:

Man Stands Alone

یعنی انسان اس دنیا میں آل پاور فل (all-powerful) ہے، وہ جو چاہے کرسکتا ہے، کوئی اس کا خدا نہیں ہے،جس کے سامنے جواب دہ ہو ۔ کسی نے اپنے لگزوریس لائف اسٹائل کے لیے یہ اصول بنایا - رائٹ ہیر، رائٹ ناؤ(right here, right now)۔ یعنی تمھیں جو خواہش پوری کرنی ہے، وہ اسی دنیا میں پوری کرلو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مگر انسان کا یہ عمل خالق کی اسکیم آف تھنگس کے خلاف تھا۔ غالباً اسی حقیقت کو یاد دلانے کے لیے کورونا وائرس کا معاملہ پیش آیا ہے۔ کورونا وائرس نے اس وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ پوری دنیا کی گورنمنٹ اس بیماری کے اثرات کو روکنے کے لیے لاک ڈاؤن (lockdown) کا طریقہ اختیار کررہی ہے، تاکہ عوام سماجی طورپر ایک دوسرے سے دوری اختیار کریں، اور اس بیماری کا اثر کم ہو۔

لاک ڈاؤن کیا ہے۔ ایک ہنگامی اقدام ہے، جس میں خطرے کو دیکھتے ہوئے لوگوں کو ایک محدود علاقے یا بلڈنگ کو چھوڑنے سے عارضی طورپر روک دیا جاتاہے۔ لیکن ان کے لیے جو ضروری سروس ہو، اسے جاری رکھا جاتاہے۔ یعنی لگزوریس لائف سے دور رہ کر اعتکاف جیسی سادہ زندگی گزارنا۔ لاک ڈاؤن کوئی برائی نہیں ہے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے تدبر وتفکر کے لیے جبری سچویشن (compulsive situation) ہے۔ یہ گویا اسپیڈ بریکر ہے۔

یہ اس لیے ہےتاکہ انسان دوڑ بھاگ کی زندگی (hectic life) سے دور رہ کر اپنا احتساب کرے۔ وہ اپنے منصوبۂ تخلیق کو جاننے کی کوشش کرے۔وہ یہ سوچے کہ اس کا صحت مند جسم اس کی اپنی تخلیق نہیں ہے۔ کھانااور پانی اور آکسیجن ، وغیرہ اس کاپیدا کیا ہوا نہیں ہے۔ بلکہ دنیا کے خالق نے اس کو یہ چیزیں عطا کی ہیں۔وہ اس حقیقت کو ڈسکور کرے کہ وہ دنیا میں آل پاور فل(all-powerful) نہیں ہے، بلکہ آل پاورفل اس کا خالق ہے، انسان آل پاور لیس (all-powerless)ہے۔ اس کو ماڈرن سائنسی ایجادات بطور انعام نہیں ملے ہیں، وہ بطورِ امتحان ہیں۔ وہ اس لیے ہیں کہ انسان اس کے ذریعے خالق کی اعلی معرفت حاصل کرے، اورپر امن انداز میں تمام انسانوں کو خالق کے منصوبۂ تخلیق سے آگاہ کرے۔ وہ لگزوریس لائف اسٹائل کو اپنانشانہ بنانےکے بجائے سادہ زندگی ، اونچی سوچ کا طریقہ اختیار کرے۔وہ اپنے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر کرے، جو اس کو ابدی جنت کامستحق بنائے۔

(یہ مضمون روزنامہ راشٹریہ سہارا، 28 مارچ 2020 میں شائع ہو چکا ہے)

other sourceWords of another person or source
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content