ایک حدیث قدسی ان الفاظ میں آئی ہے قَالَ اللَّہُ تَعَالَى:وَجَبَتْ مَحَبَّتِی لِلْمُتَحَابِّینَ فِیَّ وَالْمُتَزَاوِرِینَ فِیَّ (مسند الشہاب القضاعی، حدیث نمبر 1449)۔ یعنی اللہ تعالی نے کہا میری محبت واجب ہے، ان انسانوںکے لیے جو میری خاطر محبت کرنے والے ہیں، اور میری خاطر ایک دوسرے سے ملنےجلنے والے ہیں۔ اِس حدیث میں محبت کا مطلب مادی محبت نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب ہے اللہ کے مشن کے لیے ایک دوسرےسے ملنا جلنا ۔ یعنی وہ لوگ جو اللہ کے مشن کی خاطر باہم اکٹھے ہوں۔ جن کی مشن اسپرٹ اتنی بڑھی ہوئی ہوکہ مشن کا ہر فرد اُن کے لیے ایک محبوب ساتھی بن جائے۔ اگر ایسے کچھ افراد اکٹھے ہوجائیں، تو وہ لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ اللہ ان سے محبت کرے۔
مگر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ انسان ہم مشن ہونےکے باوجود بعض اوقات کسی وجہ سے اکٹھا نہیں ہوپاتے ۔ مثلاً کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم مشن انسان مائگریشن کر کے مختلف علاقوں میں منتقل ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح آج کل کورونا وائرس کی وبا پھیلی ہوئی ہے ، جس نے لوگوں کو مجبور کردیا ہے کہ وہ سماجی دور ی (social distancing)کو بطور علاج اختیار کریں۔ اس قسم کے موقع پر کسی کے لیے بھی ممکن نہیں ہے کہ وہ بالمواجہہ ملاقات (face-to-face meeting) کرکے باہمی انٹرایکشن کرے۔ اس وقت جو ملاقات ممکن ہے، وہ ہے الکٹرانک ملاقات ۔
الکٹرانک ملاقات کا طریقہ موجودہ زمانے کا ظاہرہ ہے، یہ طریقہ قدیم زمانے میںموجود نہیں تھا۔ اس کو وَرچُول میٹنگ (virtual meeting) کہاجاتا ہے۔یعنی دنیا کے مختلف علاقوں میں بیٹھ کرانٹرنیٹ کے ذریعے ویڈیو یا آڈیو یا تحریرکا طریقہ اختیار کرکے آپس میں ایک دوسرے سےڈسکشن کرنا۔ ورچول ملاقات موجودہ زمانے میں براہ راست مصاحبت کا بدل ہے۔ الکٹرانک ملاقات بھی ، اگر مشن کے لیے ہوتوعملاً اللہ کی خاطر محبت کرنا، اور اللہ کی خاطر اکٹھا ہونا ہے۔سماجی دوری کے موقع پر صاحبِ مشن افراد کو اِس سہولت سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔