آدمی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعد مسلسل طو رپر وہ زندگی کے تجربات میں جینے لگتا ہے۔ وہ مسلسل طور پر حالتِ زندگی میں رہتا ہے۔ اس مدت میں اس کو کبھی حالتِ موت کا تجربہ نہیں ہوتا۔ زندگی اس کے لیے روز مرہ کے تجربے میں آنے والی حقیقت ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، موت اس کے لیے ایک سنی سنائی بات ہوتی ہے، جس کا اس نے کبھی حقیقی طور پر تجربہ (experience)نہیں کیا۔
یہ دور جو انسان پر پیدا ئش کے بعد مسلسل طور پر گزرتا ہے، رات دن کے اس تجربے میں وہ دھیرے دھیرے پوری طرح کنڈیشنڈ ہوجاتا ہے۔ عملاً ایسا ہوتا ہے کہ زندگی اس کے لیے ایک امرِ حقیقی بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس، موت شعوری یا غیر شعوری طور پر اس کو ایک بعید تصور کی طرح معلوم ہونے لگتا ہے۔
زندگی اور موت کے درمیان یہی وہ فرق ہے، جس کی بنا پر انسان کا حال یہ ہوجاتاہے کہ وہ زندگی کو ایک حقیقت سمجھ لیتا ہے، اور موت اس کے لیے ایک دور کی بات کی مانند ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی زندگی کی تمام سرگرمیاں حیات رخی (life-oriented) بن جاتی ہیں، نہ کہ موت رخی (death-oriented)۔ زندگی اس کے لیے ایک واقعہ ہوتی ہے، اور موت اس کے لیے ایک دور کا عقیدہ۔
یہ صورت بلاشبہ امرِ واقعہ کے خلاف ہے۔ لیکن چوں کہ یہ عقیدہ اس کے لیے کنڈیشننگ کا مستقل پارٹ بن جاتا ہے ۔ اس لیے اس سے باہر آنے کے لیے ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی اپنی کنڈیشننگ کو توڑے، وہ اپنے آپ کو ایک ڈی کنڈیشنڈ انسان بنائے۔ موت کے بارے میں بےخبری میں جینا امرِواقعہ کے خلاف جینا ہے۔ ایسا جینا ابدی نہیں ہوسکتا۔ وہ وقت آنے والا ہے، جب کہ یہ کنڈیشننگ ٹوٹے، اور انسان کو کسی تیاری کے بغیر موت کی حقیقت کا سامنا کرنا پڑے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.