Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala May 2020
Al-Risala May 2020

مطلوب رول

Urdu · 2 min read

مکیش ہندی سنیما کے ایک نہایت مشہور پلےبیک سنگر تھے۔ ان کو وائس آف ملینیم (Voice of the Millennium) اور ٹریجڈی کنگ (Tragedy King) کہاجاتا ہے۔ وہ دہلی میں 1923 ء کو پیداہوئے۔ 53 سال کی عمر میں 1976 میں ان کی موت ہوگئی، جب کہ وہ اپنے کیریر میں عروج پر تھے۔ ان کی موت امریکا کے ڈیٹیرائٹ (مشی گن) میں ہوئی۔ وہ وہاں ایک پروگرام میں اپنا پرفارمنس دینے کے لیے گئے تھے۔ جس دن اس کی موت واقع ہوئی، اس دن وہ صبح کو جلدی اٹھے، نہایا،اس کے بعد سینے میں درد محسوس ہواتو اس کو فوراً ہاسپٹل لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اعلان کیا کہ ہارٹ اٹیک سے مکیش کا انتقال ہوچکا ہے۔

ہر انسان جو اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے، وہ خالق کے پیدا کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ خالق ہر انسان کو مختلف قسم کی صلاحیتیں دے کر دنیا میں بھیجتا ہے۔ ہر انسان کو اس دنیا میں کوئی پرفارمنس دینا ہے۔ ہر انسان امکانی (potential)طور پر ویل اکوئپڈ(well equipped) انسان کی حیثیت سے پیدا ہوتا ہے، تاکہ وہ اپنےامکانات کو جانے، اور اس کے مطابق، اپنا مطلوب رول اعلیٰ درجے میں ادا کرسکے۔ ہر انسان پر لازماً موت آتی ہے۔ موت کے بعد ہر انسان اپنے خالق کے پاس بھیج دیا جاتا ہے۔ وہاں اس سے پوچھا جائے گا کہ تم نے اپنا مطلوب رول ادا کیا یا نہیں۔

ہر عورت اور مرد کو اسی سوچ کے ساتھ دنیا میں زندگی گزارنا ہے۔ ہر عورت اور مرد کو اپنے بارے میں یہ دریافت کرنا ہے کہ وہ کون سا رول ادا کرنے کے لیے اس دنیا میں بھیجا گیا ہے، اور کیا وہ اس رول کو دنیا میں ادا کررہا ہے یا نہیں۔ یہی ہر انسان کا امتحان ہے۔ جو اس امتحان میں پورا اترے، وہ کامیاب ہے، اور جو اس امتحان میں پورا نہ اترے، وہ ناکام ہے۔ مکیش کوٹریجڈی کنگ کہا جاتا ہے۔ غالباً مکیش کا رول یہ تھا کہ وہ انسان کو بتائے کہ اس دنیا میں انسان کس طرح ٹریجڈی میں اپرچنٹی (opportunity) کو دریافت کرے، وہ کس طرح اپنی ناکامی کو کامیابی میں کنورٹ کرے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.