Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala May 2020
Al-Risala May 2020

بڑھاپے کا تجربہ

Urdu · 2 min read

قرآن میں تین مقامات پر یہ بتایا گیا ہے کہ ہر انسان کے لیے یہ مقدر ہے کہ وہ موت کاذائقہ چکھے (آل عمران،3:185، الانبیاء، 21:35، العنکبوت، 29:57) ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کو ضرور موت کا تجربہ پیش آنے والا ہے۔موت سے پہلے انسان پر بڑھاپا آتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑھاپا انسان کے لیے زندگی کاصرف ایک واقعہ نہیں ہے، بلکہ بڑھاپا انسان کے لیے موت کا ایک پیشگی تجربہ ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

بڑھاپا اس لیے آتا ہے کہ انسان تجربے کی صورت میں موت کی حقیقت کو جان لے۔ تاکہ وہ موت کے بعد پیش آنے والے دورِ حیات کی پیشگی تیاری کرلے۔ موت بہر حال ہر انسان کے لیے آتی ہے۔ مگر بڑھاپا انسان کے لیے ایک چیتاونی ہے، تاکہ وہ موت سے پہلے موت کے بعد والے حالات کی تیاری کرلے۔

ہر انسان کو موت کا ذائقہ چکھناہے، یعنی ہر انسان کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ موت کا تجربہ کرے۔ بڑھاپے سے پہلے انسان کے لیے موت ایک خبر ہوتی ہے۔ لیکن بڑھاپا انسان کے لیے موت کا ایک تجربہ بنا رہتا ہے۔ اس لحاظ سے بڑھاپے کا زمانہ گویا فائنل کال(final call) ہے کہ انسان آخرت سے پہلے آخرت کی تیاری کرلے۔ بڑھاپے کا زمانہ آخرت کی تیاری کا آخری زمانہ ہے۔ بڑھاپے کے ساتھ یہ زمانہ ختم ہوجائے گا، اور انسان کو یہ موقع باقی نہ رہے گا کہ انسان آخرت کے لیے مزید تیاری کرسکے۔

موت انسان کے لیے ایک دورِ حیات کی پیشگی خبر ہے۔ موت سے پہلے انسان زندگی قبل از موت کا تجربہ کرتا ہے۔ موت انسان کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ موت کے بعد آنے والے دورِ آخرت کے لیے اپنے آپ کو پیشگی طور پر تیار کرلے۔وہ اپنے آپ کو اس مقصد کے لیے تیار کرلے کہ آخرت کا زمانہ اچانک آجائے، اور اس کے لیے اس نے اپنی تیاری نہ کی ہو۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content