روزہ کے بارے میں ایک حدیث اس طرح آئی ہے: إِنَّ رَبَّکُمْ یَقُولُ:کُلُّ حَسَنَةٍ بِعَشْرِ أَمْثَالِہَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ، وَالصَّوْمُ لِی وَأَنَا أَجْزِی بِہِ (جامع الترمذی، حدیث نمبر 764)۔ یعنی بیشک تمھارا رب کہتا ہے کہ ہر نیکی کا ثواب (reward) دس گناہ سے 700گنا تک ہوتاہے۔ لیکن روزہ میرے لیے ہے، اور میں ہی روزےکا ثواب دوں گا۔ بعض روایتوں میں یہ اضافہ ہے:عَبْدِی تَرَکَ شَہْوَتَہُ وَطَعَامَہُ وَشَرَابَہُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِی(مسند احمد، حدیث نمبر 9138)یعنی میرابندہ میری رضا کے لیے اپنی خواہشات اور کھاناپانی کو چھوڑتا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ روزے کا لامحدود ثواب اس لیے ہے کہ روزہ دار کھانا اور پینا محدود مدت تک چھوڑ کر اپنے آپ کو فاسٹنگ شاک کے تجربے سے گزارتا ہے۔ فاسٹنگ شاک کا تجربہ اس کے مائنڈ کو ٹرگر (trigger) کرتاہے ۔اس کے بعد وہ اللہ رب العالمین کی نعمتوں کا عالمی تجربہ کرتاہے۔ یہاں تک کہ وہ دریافت کرتاہے کہ خالق نے اس کے لیے پوری یونیورس کو کسٹم میڈ یونیورس بنا دیا۔ یہ تجربہ روزہ دار کو شکر کے سمندر میں داخل کردیتاہے۔
فاسٹنگ شاک (fasting shock) ایک ر وزہ دار کے لیے ویسا ہی ہے، جیسا نیوٹن کے لیے ایپل شاک (apple shock) تھا۔ ایپل شاک نے نیوٹن کو خالق کی عظیم بلسنگ (blessing) سے واقف کرایا، جس کو سائنس کی زبان میں کششِ ثقل (gravitational pull) کہاجاتا ہے۔ زمین کی کشش ہزاروں سال سے انسان کے لیے نا معلوم بنی ہوئی تھی۔مگر اب انسان جانتا ہے کہ یہ کشش اتنی زیادہ اہم ہے کہ اگر یہ کشش نہ ہو تو زمین پر تہذیب کا وجود نہ ہوگا۔
روزے میں بھوک اور پیاس کا تجربہ اس قسم کا فاسٹنگ شاک ہے، جوانسان کے مائنڈ کو ٹرگر کرتاہے۔ اس کے بعد انسان کے اندر وہ سوچ جاگتی ہے ،جو اس کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ خالق کے نعمتوں کو جانے اور اس کا اعتراف (acknowledge)کرے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔