Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala May 2019
Al-Risala May 2019

مسخر کائنات

Urdu · 2 min

قرآن میں دو درجن سے زیادہ آیتیں ہیں، جن میں بتایا گیا ہے کہ زمین و آسمان کو اللہ نے انسان کے لیے مسخر کردیا ہے۔مسخر کرنے کا مطلب ہے تابع کردینا، یا سبجکٹ (subject)بنا دینا۔ زمین و آسمان کا مطلب ہے کائنات۔ کائنات کوانسان کے لیے مسخر کردینا، انسان کے اوپر خالق کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اسی تسخیر کی وجہ سے پوری کائنات کسٹم میڈ یونیورس (custom-made universe) بنی ہوئی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس تسخیرکے دو پہلو ہیں۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ جس کو فوق الفطری سطح پر تابع بنانا کہا جاسکتا ہے۔ یعنی انسان کی مرضی کے بغیر اپنے آپ کائنات کے تمام اجزاء کا انسان کی خدمت میں لگا رہنا۔ اس کائنات میں کوئی چیز انسان کی دشمن نہیں، کائنات کی ہر چیز انسان کے موافق بنی ہوئی ہے۔ انسان کی مرضی کے بغیر ہر چیز انسان کی خدمت کررہی ہے۔

تسخیر کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ نےکائنا ت کو معلوم فطری قوانین کا تابع بنا دیا ہے۔ اس طرح یہ ممکن ہوگیا ہے کہ انسان فطرت کے ان قوانین کو دریافت کرے، اور ان کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرے۔ مثلاً بجلی کے قانون کو دریافت کرکے بجلی کو اپنے لیے مفید بنانا۔ ہوائی جہاز کے قانون کو دریافت کرکے ہوائی جہاز کو اپنی سواری کے لیے استعمال کرنا، وغیرہ۔

کائنات ناقابل قیاس حد تک عظیم ہے۔ کائنات کی عظمت خالق کی عظمت کا ایک تعارف ہے۔ انسان کو اگر اس عظمت کی معرفت ہوجائے، تو وہ کامل معنوں میں سبمیشن (submission) کی زندگی اختیارکرلے گا۔ انسان کے لیے ناممکن ہوجائے گا کہ وہ زمین پر سرکشی کا طریقہ اختیارکرے۔ انسان فساد کا طریقہ چھوڑ کر کامل معنوں میں اطاعت الٰہی کی زندگی اختیار کرلے گا۔ اسی زندگی کا شرعی نام تقویٰ کی زندگی ہے۔ ایسے ہی متقیوں کے لیے آخرت میں ابدی جنت کی خوشخبری ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content