Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala May 2018
Al-Risala May 2018

طالب علمی کا دور

Urdu · 2 min read

طالب علمی کا دور نوجوانی کا دور ہوتا ہے۔ نوجوانی کے دور میں آدمی ایک غیر پختہ انسان ہوتا ہے۔ وہ اس قابل نہیں ہوتا کہ ایک چیز اور دوسری چیز میں فرق کرے۔ وہ اس قابل نہیں ہوتا کہ جذباتی بات اور دانش مندانہ بات کے درمیان تجزیہ کرسکے۔ وہ لفظی نعرہ اور دانشمندانہ قول کو الگ الگ کرکے دیکھے۔ وہ نتیجہ خیز اقدام اور غیر نتیجہ خیز اقدام کے درمیان فرق کو سمجھے۔ یہ فرق خود فطرت کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ پختگی (maturity) کا تعلق عمر سے ہے۔ جب تک آدمی ایک خاص عمر تک نہ پہنچے ، اس کا شعور ایک پختہ شعور نہیں ہوسکتا۔ اس لیے طالب علموں کی تنظیم بنا کر ان کو مظاہراتی سرگرمیوں میں لگانا کوئی کام نہیں۔ اس قسم کی سرگرمی طالب علموں کےڈی ریلمنٹ (derailment) کے ہم معنی ہے۔ اپنے نتیجے کے اعتبا ر سے وہ طالب علموں کے ساتھ دشمنی ہے، نہ کہ دوستی۔

طالب علموں کے لیے صحیح ترین مشغلہ یہ ہے کہ وہ پڑھیں، اور پڑھیں، اور پڑھیں۔ وہ تعلیم کے ختم تک اپنی ذہنی ارتقا (intellectual development) کے سوا کسی اور چیز کو اپنا فوکس نہ بنائیں۔ مثلاً طالب علمی کے دوران وہ کالج اور یونیورسٹی کے بعد سب سے زیادہ اہمیت لائبریری کو دیں۔ وہ کلاس کے بعد کا وقت کتابوں کے مطالعے میں لگائیں۔ بلکہ میں یہ کہوں گا کہ طالب علمی کے زمانے میں وہ صرف اپنے تعلیمی مستقبل کو فوکس کریں۔ کسی اور چیز پر صرف اس وقت فوکس کریں، جب کہ تعلیم کا زمانہ ختم ہوچکا ہو۔

موجودہ زمانے میں اقتصادیات تعلیم کا ایک جزء بن گیا ہے۔ مگر طالب علم کو چاہیے کہ اس کو وہ صرف ضرورت کے خانے میں رکھے۔ تعلیم کی تکمیل سے پہلے تعلیم برائے تعلیم (education for the sake of education) کا فارمولہ اختیار کرے۔ یاد رکھیے موجودہ زمانہ اختصاص کا زمانہ ہے۔ اگر آپ کسی فن میں مہارت رکھتے ہوں تو آپ کی قیمت ہے، اور اگر آپ مہارت نہ رکھتے ہوں تو آپ کی قیمت عملی زندگی میں بہت زیادہ گھٹ جائے گی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.