Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Al-Risala May 2018
Al-Risala May 2018

اسلامی روحانیت

Urdu · 1 min read

اسلامی روحانیت اپنی حقیقت کے اعتبار سے تخلیقی روحانیت (creative spirituality) کا نام ہے۔ اسلامی روحانیت در اصل ایسے مومن کی ذہنی پیداوار ہے، جو مسلسل تدبر کے ذریعہ اس قابل ہوگیا ہو، جو روحانی آئٹم (content of spirituality) کو چیزوں سے دریافت کرسکے، اور اس طرح اپنی روحانیت کو ترقی یافتہ رروحانیت بنائے۔

قرآن میں اس عمل کو شہد کی مکھی کے عمل کی مثال سے واضح کیا گیا ہے (النحل، 16:68)۔ شہد کی مکھی پھولوں کے اندر موجود نکٹر (nectar) کو نکالتی ہے، اور اس کے مجموعے سے وہ انوکھی چیز بناتی ہے، جس کو شہد کہا جاتا ہے۔ یہی معاملہ ترقی یافتہ انسانی ذہن کا ہے۔ اس معاملے کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے:وَکَأَیِّنْ مِنْ آیَةٍ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ یَمُرُّونَ عَلَیْہَا وَہُمْ عَنْہَا مُعْرِضُونَ (12:105)۔ یعنی اور آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر ان کا گزر ہوتا رہتا ہے اور وہ ان پر دھیان نہیں کرتے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہاں قرآن میں آیت سے مراد روحانی نکٹر (nectar of spirituality) ہے۔ مومن کا تیار ذہن جب زمین و آسمان کو دیکھتا ہے۔ تو وہ بار بار چیزوں میں چھپے ہوئے روحانی نکٹر کو دریافت کرتا ہے، اور پھر اس کو اخذ کرکے اپنی فکری ارتقا کا ذریعہ بناتا ہے۔ اس طرح اس کے اندر ایک روحانی شخصیت جاگتی ہے۔ اس طرح اس کی سوچ ترقی کرتے کرتے اس کو ایک ترقی یافتہ شخصیت (developed personality) بنادیتی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

زمین و آسمان کے اندر یہ روحانی نکٹر مادی صورت میں نہیں ہے، جیسا کہ شہد کی مثال میں ہوتا ہے۔ بلکہ وہ امکان (potential)کے روپ میں ہے، جو دریافت کے ذریعہ انسان کو حاصل ہوتا ہے۔ شہد کی حیثیت مادی نکٹر کی ہے، اور روحانی آئٹم کی حیثیت توسم کے ذریعہ اخذ کردہ اسپریچول وزڈم (spiritual wisdom) کی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content