Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala May 2018
Al-Risala May 2018

روزہ برائے ترک

Urdu · 2 min read

روزہ کے بارے میں ایک حدیث قدسی آئی ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے:روزہ (صوم) میرے لیے ہے، اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔ روزہ دار میرے لیے اپنی شہوت کو چھوڑتا ہے۔ وہ میرے لیے اپنا کھانا اور اپنا پانی چھوڑتا ہے۔ اور روزہ ڈھال ہے۔ اور روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں، ایک خوشی جب کہ وہ روزہ کھولتا ہے، اور دوسری خوشی جب کہ وہ اپنے رب سے ملے گا۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر7492)۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

روزہ کی اصل اہمیت اس کی اسپرٹ میں ہے، نہ کہ اس کے فارم میں۔ روزہ کی حقیقت ترک (چھوڑنا) ہے۔ روزہ میں روزہ دار یہ کرتا ہے کہ وہ مخصوص اوقات میں عارضی طور پر کھانا اور پانی چھوڑ دیتا ہے۔ اس چھوڑنے کے عمل کا اللہ کے یہاں بہت بڑا درجہ ہے۔ بشرطیکہ یہ چھوڑنا خالص اللہ کے لیے ہو۔ روزہ میں کھانے اور پینے کا ترک علامتی ترک ہے۔ اس کی اصل حقیقت یہ ہے کہ روزہ دار اپنی عادت کو یا اپنی کسی محبوب چیز کو اللہ کے خلاف سمجھ کر چھوڑ دے۔

سچا روزہ دار وہ ہے جو رمضان کے مہینہ میں یہ طے کرے کہ وہ اپنی قابل ترک عادتوں کو دریافت کرے گا۔ اور ہر دن کم از کم ایک عادت کو اللہ کے لیے چھوڑ دے گا۔ یہ گویا اللہ کے لیے ایک خود انضباطی (self discipline) کا معاملہ ہے۔

اس خود انضباطی کے عمل میں چھوڑنے کی بہت سی چیزیں ہیں۔ مثلا ایک سنی ہوئی بات کو بلا تحقیق دوسروں سے بیان کرنا ۔ مجلس میں ہنسنا اور مذاق اڑانا۔ ایک آدمی بول رہا ہو تو اس کی بات ختم ہونے سے پہلے بولنا۔ وعدہ کرنے کے بعد اس کو پورا نہ کرنا۔ غیر سنجیدہ گفتگو کرنا۔ منفی رویہ اختیار کرنا۔ ایک دوسرے پر فخر کرنا۔ بات چیت میں بے احتیاطی کا انداز اختیار کرنا۔ دسترخوان پر کھانا اور پانی چھوڑنا۔ تکلف کا طریقہ اختیار کرنا۔ دھکا دے کر آگے بڑھنا۔ دلیل کے بجائے عیب جوئی کی زبان بولنا۔زیادہ بولنا یا زور زور سے بولنا ، وغیرہ۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content