Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala May 2017
Al-Risala May 2017

جزئیات، کلیات

Urdu · 2 min read

مسلمانوں کے اندر ایک ظاہرہ وہ ہے جس کو مسلکی اختلاف کہا جاتا ہے۔ مسلکی اختلافات کی بنا پر فرقے بن گیے ہیں، اور ان فرقوں کی درمیان تشدد عام ہوگیا ہے، کبھی فکری تشدد اور کبھی عملی تشدد۔مسلکی اختلافات کی حقیقت کیا ہے۔ یہ سب کے سب جزئی اختلافات ہیں۔ یہ در اصل غلو (extremism) ہے جس نے ان اختلافات کو مسئلہ بنا دیا، ورنہ یہ کوئی مسئلہ تھا ہی نہیں۔

بعد کو ماس کنورزن (mass conversion)کے زمانے میں جب یہ جزئی اختلافات ظاہر ہوئے ، اس وقت بعض علماء نے کہا کہ یہ جزئی اختلافات ہیں۔یہ اختلافات حقیقت میں تنوع کی مثال ہیں، نہ کہ فرق کی مثال۔ اورتنوع کے معاملے میں ہمیشہ تعدد (diversity) ہوتی ہے۔ یعنی یہ مسلک بھی درست اور وہ مسلک بھی درست۔

کچھ دوسرے علماء نے اس کو نہیں مانا، انھوں نے ان اختلافات کو توحد کے معیار سے جانچنا شروع کردیا۔ انھوں نے کہا کہ الحق لایتعدد۔ انھوں نے جزئیات کو حق اور ناحق کا مسئلہ بنا دیا۔ یہیں سے یہ ہوا کہ جواختلافِ تنوع تھا، وہ اختلافِ تفرق کے ہم معنی بن گیا، اور بڑھتے بڑھتے ایسا ہوگیا گویا کہ یہ مختلف مسالک نہیں ہیں، بلکہ مختلف مذاہب ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حقیقت یہ ہے زندگی میں ہمیشہ اختلاف بمعنی فرق ہوتا ہے۔ اس قسم کا اختلاف بذات خود کوئی برائی نہیں ہے۔ اختلاف کو پرامن گفت و شنید کا موضوع بنایا جائے تو کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔ لیکن جب اختلاف کو حق اور ناحق کا مسئلہ بنادیا جائے تو اس وقت اختلاف عملاً برائی کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ پھر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے فرقہ بندی آتی ہے، اس کے بعد تکفیر آتی ہے، اور پھر لڑائی شروع ہوجاتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ دوسری چیزوں کی طرح مذہب میں بھی کلیات اور جزئیات ہوتے ہیں۔ کلیات توحد کا موضوع ہیں، اورجزئیات تعدد کا موضوع۔یعنی کلیات میں صرف ایک ہی مسلک درست ہوتا ہے، جب کہ جزئیات میں ایک سے زیادہ مسلک درست ہوسکتے ہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content