Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala May 2017
Al-Risala May 2017

انسانی تاریخ

Urdu · 2 min read

انسان کی سیاسی تاریخ کے بارے میں ایک حدیث مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:إذا ہلک کسرى، فلا کسرى بعدہ، وإذا ہلک قیصر، فلا قیصر بعدہ۔ ( مسند احمد، حدیث نمبر10502)۔ یعنی جب کسری ہلاک ہوگا توا سکے بعد کوئی اور کسری نہ ہوگا، اور جب قیصر ہلاک ہوگا تو اس کے بعد کوئی اور قیصر نہ ہوگا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جیسا کہ معلوم ہے عرب کی سرحد پر اس زمانے میں دو بڑی سلطنتیں قائم تھیں۔ ایک ساسانی سلطنت اور دوسری بازنطینی سلطنت۔ مسلم خلافت کے زمانے میں ان دونوں سلطنتوں سے مسلمانوں کا ٹکراؤ ہوا۔ اس ٹکراؤ کے بعد دونوں سلطنتیں ختم ہوگئیں۔ اور پھر اس کے بعد اس نام کی کوئی سلطنت موجود نہ رہی۔

اس حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ معاملہ کا مطلب یہ نہ تھا کہ ساری دنیا میں مسلمانوں کی سلطنت قائم کی جائے۔ بلکہ اس کا مطلب صرف ایک دور کو ختم کرکے دوسرے دور کو لانا تھا۔ اور یہ واقعہ پوری طرح عمل میں آگیا۔ قیصر و کسری کی سلطنت کا خاتمہ قدیم طرز کی بادشاہت کا خاتمہ بن گیا۔ جو ساری دنیا میں جبر کانظام قائم کرنے کا ذریعہ تھیں ۔ اسی لیے اس قسم کی بادشاہت کو ڈسپوٹزم (despotism) کہا جاتا ہے۔

مگر یہ سیاسی نظام اچانک ختم نہیں ہوسکتا تھا۔ فطر ت کے قانون کے مطابق صرف یہ ممکن تھا کہ وہ تدریجی طور پر ختم ہو۔ چناں چہ ان سلطنتوں کےخاتمہ کے بعد ایک نیا عمل (process) جاری ہوا، جو آخر کار جبری بادشاہت کو ختم کرنےکا ذریعہ بن گیا۔اس خاتمہ کا مطلب حکومت پر قبضہ کرنا نہیںتھا، بلکہ یہ تھا کہ دنیا میں مذہبی آزادی کا دور آئے، اور پرامن دعوت کا کام پوری طرح ممکن ہوجائے۔ اکیسویں صدی اسی نئے دور کی صدی ہے۔ اب مسلمانوں کو کسی سے جنگ نہیں کرنا ہے۔ بلکہ تمام قوموں میں پر امن دعوت کا کام انجام دینا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content