Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Al-Risala May 2016
Al-Risala May 2016

سوال و جواب

Urdu · 6 min read

2015 سے میں ماہ نامہ الرسالہ کا قاری ہوں۔ آپ کی کتابیں بالخصوص پیغمبر انقلابـــــ، غیر ملکی سفر نامے، وغیرہ کا مطالعہ کرچکا ہوں۔ پوسٹ گریجویشن میں تاریخ خصوصی مضمون ہے۔ ایم اے کے دوران آپ کے مضمون تاریخِ انسانی کے مطالعے سے تاریخ کے متعلق مستفید ہوا۔ عالمی منظر نامے سے واقفیت رکھنے کے لیے Indian Express پڑھتا ہوں۔ انسانی تاریخ کے مختلف مراحل کو ذہن میں رکھ کر اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آپ کا مشن صلح حدیبیہ پر اتفاق، صبر وضبط کا فارمولا، ہی انسانی زندگی اور اس کی بقاء اور ارتقاء کے لئے لازم ہیں۔اس دور انسانی میں جس میں آپ اور ہم جی رہے ہیں، آپ حالات کی سنگینی سے زیادہ واقف ہیں۔ ایسے وقت میں جب کہ لوگ اسلام کے نام پر، اسلام کو اس طرح پیش کررہے ہیں جو اسلام کی تعلیمات کے منافی ہیں،صلح حدیبیہ ماڈل کو سامنے رکھ کر مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے۔ صبر وضبط اپنی جگہ ، ان کی غلط فہمی رفع کرنے کے لئے کس راستے کا انتخاب کیا جائے۔(محمد اسماعیل اشفاق احمد، مسلم پورہ، مالے گاؤں)

ہمارا لٹریچر پورا کا پورا اسی سوال کا جواب ہے۔ آپ نے ابھی صرف چند کتابیں پڑھیں ہیں، اس لیے آپ کو یہ شک پیدا ہوا۔ اگر آپ تمام کتابیں پڑھیں، اور اسی کے ساتھ ہمارا ماہنامہ الرسالہ (اردو)، اور اسپرٹ آف اسلام (انگریزی) کا مطالعہ جاری رکھیں تو آپ کے تمام سوالات رفع ہو جائیں گے، ان شاء اللہ۔

اصل یہ ہے کہ عام طور پر لوگ وقتی مسائل میں الجھے رہتے ہیں۔ لوگوں کا یہی مزاج ہے جو لوگوں کے اندر ردعمل (reaction) کی نفسیات پیدا کرتا ہے۔ ردعمل کی نفسیات مزید بڑھ کر نفرت کی نفسیات بن جاتی ہے۔ اور نفرت کی نفسیات آخرکار لوگوں کو تشدد تک پہنچادیتی ہے۔ لوگوں کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ اگر وہ فعال تشدد (active violence) میں مبتلا نہ ہوں تب بھی وہ منفعل تشدد (passive violence)کا شکار ہوکر رہ جاتے ہیں ۔اس نفسیات کا سب سے زیادہ برا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ مثبت سوچ سے محروم ہو جاتے ہیں۔ حالاں کہ مثبت سوچ ہی تمام ترقیات کا اصل زینہ ہے۔

میں الرسالہ کا مستقل قاری ہوں۔ یہاں چند سوالوں کی وضاحت مطلوب ہے، براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔

1- آپ نے اعتدال کے موضوع پر کئی مضامین لکھے ہیں، مگر یہ باہم متضاد معلوم ہوتےہیں۔ آپ نے اپنی کتاب ’’دین انسانیت‘‘ میں لکھا ہے کہ:’’معتدل انداز کا تعلق زندگی کےتمام معاملات سے ہے۔ ہر معاملے میں آدمی کو افراط اور تفریط سے بچنا ہے۔ ہر معاملے میں، دوانتہاؤں کے درمیان بین بین والی صورت اختیار کرنا ہے‘‘(صفحہ 125)۔ تاہم الرسالہ کے حالیہ شماروںمیں ، آپ اس کے برعکس لکھ رہے ہیں۔ اب آپ فرمارہے ہیں کہ’’اعتدال‘‘ کا تعلق تمام معاملات سے نہیں، بلکہ صرف عملی معاملات سے ہے۔(الرسالہ، جولائی 2014، ص 41، اکتوبر، ص 40، ستمبر 2015 ص 21)۔ مزید یہ کہ آپ نے حالیہ شمارے میں، اعتدال کا تقابل ’’حق وضلال‘‘ سے کیا ہے، جب کہ اعتدال کے مقابلے میں ہمیشہ افراط وتفریط کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

quoted sourceQuoted from another author or source

2۔ آپ کی کتابوںمیں دعوت پر سب سےزیادہ زور دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ دعوت کے علاوہ، ایک مومن پر، حقوق اللہ اور حقوق العباد کے تحت، دین کے دوسرے جو تقاضے ہیں، دین میں اُن کی اہمیت کیا ہے؟ مثلاًنماز، زکوة، حج، والدین کی خدمت، گھر والوں، پڑوسیوں اور دوسرے انسانوں کی نسبت سے عائدہونے والے حقوق وفرائض، وغیرہ۔

3۔ حدیث میں ’’عزل‘‘ کے بارے میں آیا ہے، کیا یہ جائز ہے۔ اِس کے متعلق آپ کی رائےکیا ہے۔(محمد نسیم خاں، لکھنؤ)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

(1) میری پہلی عبارت میں آپ ’’تمام معاملات‘‘کے ساتھ’’عملی‘‘کا اضافہ کر دیں تو آپ کا شبہ اپنے آپ ختم ہوجائے گا۔ اعتدال کے بارے میں مَیں نے جو بات لکھی ہے، اس کو آپ نے غور سے نہیں پڑھا۔ آپ دوبارہ اس کو غور سے پڑھیے تو آپ کو اپنے سوال کا جواب مل جائے گا۔ میرا اصل نقطہ نظر یہ ہے کہ اعتدال کا تعلق فکری امور سے نہیںہے، بلکہ عملی معاملات سے ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ، بلکہ عملا تمام علماء کے درمیان یہ مسئلہ متفق علیہ رہا۔ اگرچہ علماء اس مسئلے کو بتانے کے لیے دوسرے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔

(2) میری تحریروں میں دعوت پر زور دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب دوسرے فرائض کی نفی نہیں، بلکہ مطلوب صورت کی اہمیت کو بتانا ہے۔ ہماری کتابوں میں دوسرے پہلووں پر بھی لکھا گیا ہے۔ البتہ موقعہ کے لحاظ سے دعوت الی اللہ کے فریضہ پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ آپ ہماری تفسیرِ قرآن ، تذکیر القرآن پڑھیں اس میں آپ کو ہماری ساری باتیں مل جائیں گی۔

(3) عزل کے بارے میں میرا مسلک وہی ہے جو صحیح البخاری کی روایت سے ثابت ہے۔ اس کو آپ پڑھ لیں۔ اس معاملہ میں الگ سے میری کوئی رائے نہیں ہے۔ البخاری کے ان الفاظ پر آپ غور کیجیے: عن جابر رضی اللہ عنہ، قال کنا نعزل والقرآن ینزل۔(حدیث نمبر 2508) ان الفاظ پر غور کرکے آپ خود اپنے سوال کا جواب پاسکتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مولانا آپ نے 1 نومبر 2015 کی سنڈے تقریر میں جو فرمایا اس میں سے چند باتوں پر مزید وضاحت مطلوب ہے:

1 ۔ پولٹکس کے ساتھ جب مذہب مل جائے تو تقدس آجاتا ہے، اس کا کیا مطلب ہے۔

2 ۔دین اور سیاست میں جدائی اور دین پرسنل چوائس ہے اور سیاست سماجی قبولیت کی بنیاد پر ہوتا ہے، میں فرق کیا ہے۔

3۔ سیاست میں دین کو کب داخلہ ملے گا، کیا اس وقت جب کہ لوگ اس کے لیے تیار ہوں۔( حافظ سید اقبال احمد عمری، عمر آباد، تمل ناڈو)

opposing viewA view stated in order to be argued against

1 ۔ پولٹکس جب سیکولر ذہن کے ساتھ چلائی جائے تو وہ ایک دنیوی معاملہ ہوتا ہے۔ اس بنا پر سیکولر پولٹکس میںفیصلے کی بنیاد ہمیشہ عقل ہوتی ہے۔ایسے لوگ ہمیشہ اپنی سرگرمیوں کو نتیجے کے اعتبار سے جانچتے ہیں۔ ان کی سرگرمی اگر مثبت نتیجہ پیدا کرے تو وہ اس پر قائم رہیں گے، اور اگر ان کی سرگرمیاں بے نتیجہ دکھائی دیں تو وہ ان پر از سر نو غور کریں گے۔ وہ اپنی سرگرمیوں کی نئی منصوبہ بندی کریں گے۔ اس کے برعکس، مذہبی ذہن کے لو گ جب پولٹکس اختیار کریں تو اپنے مزاج کی بنا پر ان کے لیے سارا مسئلہ عقیدہ کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ اس بنا پر ان کی پولٹکس،دوسرے مذہبی اعمال کی طر ح مقدس بن جاتی ہے۔ وہ اس پر نظر ثانی نہیں کرتے، خواہ اسی راستے میں وہ تباہ ہوکر رہ جائیں۔ وہ ہلاکت کو شہادت کا درجہ دے کر ہر حال میں اس پر قائم رہتے ہیں۔

2 ۔ سیاست ہمیشہ ایک حریف (rival) پیدا کرتی ہے۔ سیاست سسٹم میں بدلاؤ کا نشانہ دیتی ہے۔ اس بنا پر اول دن سے ایسا ہوتا ہے کہ جن لوگوں کا سیاست پر عملی قبضہ ہے، ان سے ٹکراؤ شروع ہو جاتا ہے۔ اس ٹکراؤ سے بچنے کی عملی صورت یہ ہے کہ سیاست کو عقیدہ کا مسئلہ نہ بنا یا جائے، بلکہ اس کو سماجی انتخاب کا مسئلہ بنادیا جائے۔

3 ۔ مذہب میں عملی سیاست کا داخلہ عقیدہ کی بنیاد پر نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ سماجی حالات کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ جیسے سماجی حالات ویسی عملی سیاست۔ ایک حدیث کا مطالعہ کرکے اس حقیقت کو سمجھا جاسکتا ہے عن عائشةقالت إنما نزل أول ما نزل منہ سورة من المفصل، فیہا ذکر الجنة والنار، حتى إذا ثاب الناس إلى الإسلام نزل الحلال والحرام، ولو نزل أول شیء لا تشربوا الخمر، لقالوا لا ندع الخمر أبدا، ولو نزل لا تزنوا، لقالوا لا ندع الزنا أبدا، لقد نزل بمکة على محمد صلى اللہ علیہ وسلم وإنی لجاریة ألعب{بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُہُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْہَى وَأَمَرُّ} [54:46] وما نزلت سورة البقرة والنساء إلا وأنا عندہ۔(صحیح البخاری، حدیث نمبر4993)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content