Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala May 2016
Al-Risala May 2016

انسان کا عجز

Urdu · 2 min read

قرآن میں آیا ہے  خُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِیفًا ۔(4:28)یعنی انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ انسان کی کمزوری اس کی تخلیق میں شامل ہے۔ وہ کسی بھی تدبیر کے ذریعے ایسا نہیں کرسکتا کہ وہ ضعیف مخلوق کے بجائے قوی مخلوق بن جائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ضعف انسان کی ایک ایسی عام صفت ہے کہ اگر انسان سوچے تو وہ ہر لمحہ اس کو یاد کرتا رہے گا ۔ مثلا آپ کھانا کھارہے ہیں، اگر آپ یہ سوچیں کہ میرا معدہ کھانے کو قبول نہ کرے تو میرے لیے میرا کھانا پتھر کی مانند بن جائے گا۔ آپ چیزوں کو دیکھ رہے ہیں ، اب آپ سوچیں کہ میری آنکھ سے اگر بینائی کا خاتمہ ہوجائے تو سورج کی روشنی میں بھی مَیں چیزوں کو دیکھ نہیں سکتا۔ یہی حال ان تمام چیزوں کا ہے جن کو آدمی روزانہ استعمال کرتا ہے۔ اور جن کی وجہ سے وہ زندہ رہتا ہے اور چلتا پھرتا رہتا ہے اور اپنے سارے کام کرتا ہے۔

انسان کا ضعف اس کے لیے صرف ضعف نہیں ۔ بلکہ وہ اس کے لیے وزڈم (wisdom) کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ آدمی اگر اپنے عجز اور ضعف کو سوچے تو اس کے اندر سےبڑائی کا جذبہ ختم ہو جائے گا۔ وہ پورے معنوں میں متواضع (modest)انسان بن جائے گا۔ اور بلاشبہ تواضع ،انسان کی سب سے بڑی صفت ہے۔ اسی طرح آدمی اگر اپنے ضعف کو یاد کرے تو وہ کبھی اپنے خالق کی یاد سے غافل نہ ہوگا۔ کیوں کہ اس کا ضعف اس کو یاد دلائے گا کہ دنیا میں زندہ رہنے کے لیے اس کو ایک قابلِ اعتماد سہارا درکار ہے۔ اور یہ قابلِ اعتماد سہاراقادرِ مطلق خدا کے سوا کوئی اور نہیں۔

جس آدمی کو اپنے ضعیف ہونے کا زندہ شعور ہو، وہ آخری حدتک حقیقت پسند (realist) انسان بن جائے گا۔ وہ اپنے بارے میں زیادہ اندازہ (overestimation) کا شکار نہ ہوگا۔ اس کے اندر سے سرکشی کا مزاج پوری طرح ختم ہوجائے گا۔ وہ ایک ایسا انسان بن جائے گا جس کی نظر ہمیشہ خود اپنی کوتاہیوں پر ہوگی نہ کہ دوسرو ں کی غلطیوں پر۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content