Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Al-Risala May 2016
Al-Risala May 2016

عورت اور مرد

Urdu · 1 min read

عورت اور مرد کے درمیان دو متضاد نسبتیں ہیں۔اور وہ ہے کامل حیاتیاتی مطابقت کے باوجود کامل حیاتیاتی فرق۔یہ تخلیق کا انوکھا توازن (unique balance) ہے۔اور یہ ایک اہم تمدنی مقصد کے لیے ہے۔ مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تخلیق کی اس حکمت کو شاید کسی نے نہیں سمجھا۔

قرآن میں اس حکمت کو دولفظوں میں اس طرح بیان کیا گیا ہے بَعْضُکُمْ مِنْ بَعْضٍ (3:195)۔ قرآن کی یہ آیت اشارہ کی زبان میں تھی۔ تدبر کے ذریعہ اس کی تفصیل کو جاننا تھا۔ لیکن بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان نے اس حقیقت کو نہ قرآنی مطالعہ کے ذریعہ سمجھا اور نہ سیکولر مطالعہ کے ذریعہ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قدیم تاریخ میں یہ ہوا کہ انسان نے عورت کو مرد کے مقابلے میں کم سمجھا۔ اس بنا پر وہ فطرت کے مطابق، عورت کا صحیح استعمال دریافت نہ کرسکا۔ جدید تہذیب (modern civilization) کے زمانہ میں صنفی مساوات (gender equality) کا نظریہ اختیار کیا گیا۔ مگر یہ جدید نظریہ صرف قدیم نظریہ کا ردعمل (reaction) تھا۔ اس طرح قدیم ذہن اور جدید ذہن، دونوں افراط و تفریط کا شکار ہوئے اور اصل حقیقت تک پہنچنے میں ناکام رہے۔قدیم ذہن کے مطابق، اگر عورت اور مرد کے درمیان صنفی نامساوات (gender inequality) تھی تو جدید ذہن نے بتایا کہ عورت اور مرد کے درمیان صنفی مساوات (gender equality)ہے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان تکمیلی نسبت (gender complementarity) کا تعلق ہے۔

تخلیقی نقشہ کے مطابق عورت اور مرد ایک دوسرے کے لیے کاگ وھیل (cogwheel) کی مانند ہیں۔وہ ایک دوسرے کا تکملہ (complement) ہیں۔ دونوں میں سے ہر ایک کے اندر ایک اضافی خصوصیت (additional quality) ہے جس کے ذریعہ دونوں مل کر مقصدِ تخلیق کو پورا کرتے ہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content