Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala May 2016
Al-Risala May 2016

سوچنے کا ماڈل

Urdu · 2 min read

قرآن کی ایک آیت یہ ہے:قُلْ کُلٌّ یَعْمَلُ عَلَى شَاکِلَتِہِ فَرَبُّکُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ ہُوَ أَہْدَى سَبِیلًا (17:84)۔ اس آیت میں شاکلہ سے مراد سوچنے کا ماڈل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ خود اپنے ذہن کے مطابق اپنی سوچ کا ماڈل بنا لیتے ہیں۔ حالاں کہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ لوگ رب العالمین کے ماڈل کو جانیں اور اس کے مطابق سوچیں اور رائے قائم کریں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس آیت کو موجودہ زمانے پر منطبق کیجیے تو معلوم ہوگا کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا سوچنے کا ماڈل میڈیا کی بنیاد پر بنا ہے۔ میڈیا ایک بزنس ہے۔ میڈیا کا کام خبروں کو فروخت (sell)کرنا ہے۔ چوں کہ عام طور پر لوگ منفی خبروں کو زیادہ دلچسپی کے ساتھ سنتے اور پڑھتے ہیں۔ اس لیے میڈیا عملاً منفی خبروں کا میڈیا بن گیا ہے۔ مسلمان روزانہ اسی قسم کی خبروں کو سنتے اور پڑھتے ہیں اور انھیں خبروں کا چرچا کرتے ہیں۔ اس لیے ان کے سوچنے کا ماڈل وہی بن گیا ہے جو میڈیا کا ماڈل ہے۔

یہ ماڈل رب العالمین کے نزدیک بلاشبہ قابلِ رد ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ مسلمان ربانی ماڈل کے مطابق سوچیں۔ ربانی ماڈل، قرآن کے مطابق مبنی بر امن (peace)ماڈل ہے۔ یعنی چیزوں کو مثبت انداز میں دیکھنا اور امن کے مطابق اپنے عمل کا منصوبہ بنانا۔ مگر عملاً موجودہ زمانے کے مسلمان اس سے تقریباخالی ہیں۔

موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے لیے صحیح آغاز یہ ہے کہ وہ اپنے سوچنے کے ماڈل کو بدلیں۔ وہ چیزوں کو منفی نظر سے سوچنے کا طریقہ ختم کریں۔ وہ منفی چیزوں میں بھی مثبت پہلو دریافت کریں۔ بظاہر ناموافق باتوں کو بھی وہ موافق زاویۂ نظر سے دیکھیں۔ نفرت ، شکایت، احتجاج ، سازش، جیسے الفاظ کو وہ اپنی ڈکشنری سے نکال دیں۔ جب تک ایسا نہیں ہوگا، مسلمانوں کو اللہ کی نصرت ملنے والی نہیں۔ کیوں کہ اللہ کی نصرت ان لوگوں پر آتی ہے جو شاکلۂ خویش کے بجائے شاکلۂ رب پر اپنی زندگی کو قائم کریں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content