اسلام کا ایک اہم اصول ہے جس کو قرآن میں جاہلوں سے اعراض کہا گیا ہے(الاعراف199 )۔ سیرت ابن ہشام میں ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے قدم على رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم، وہو بمکة، عشرون رجلا أو قریب من ذلک من النصارى، حین بلغہم خبرہ من الحبشة، فوجدوہ فی المسجد، فجلسوا إلیہ وکلموہ وسألوہ، ورجال من قریش فی أندیتہم حول الکعبة، فلما فرغوا من مسألة رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم عما أرادوا، دعاہم رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم إلى اللہ عز وجل وتلا علیہم القرآن. فلما سمعواا لقرآن فاضت أعینہم من الدمع، ثم استجابوا للہ ، وآمنوا بہ وصدقوہ، وعرفوا منہ ما کان یوصف لہم فی کتابہم من أمرہ. فلما قاموا عنہ اعترضہم أبو جہل ابن ہشام فی نفر من قریش، فقالوا لہم: خیبکم اللہ من رکب! بعثکم من وراءکم من أہل دینکم ترتادون لہم لتأتوہم بخبر الرجل، فلم تطمئن مجالسکم عندہ، حتى فارقتم دینکم وصدقتموہ بما قال، ما نعلم رکبا أحمق منکم. أو کما قالوا. فقالوا لہم:سلام علیکم، لا نجاہلکم، لنا ما نحن علیہ، ولکم ما أنتم علیہ، لم نأل أنفسنا خیرا۔ (سیرۃ ابن ہشام، طبعۃ مصر، 1955، 1/391-92)
اس واقعے میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ کے پاس کچھ نصرانی لوگ حبش سے آئے تھے۔ انھوں نے آپ کی باتیں سنیں، پھر انھوں نے آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا۔ جب وہ رسول اللہ کی صحبت سے نکلے تو ان کی ملاقات ابوجہل سے ہوگئی۔ ابوجہل نے ان سے کہا کہ تم لوگ بہت احمق ہو، تم لوگوں نے اس شخص کی بات سنی ، اور پھر اس کے مومن بن گئے۔ تم کچھ لوگوں کے نمائندہ بن کر آئے تھے، تم کو اس شخص کے بارے میں تحقیق کرنا چاہیے تھا اور جا کر اپنے لوگوں کو بتانا چاہیے تھا۔ انھوں نےجواب میں اعراض کا طریقہ اختیار کیا۔ قابل غور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو اعراض کا فلسفہ نہیں بتایا تھا۔ لیکن انھوں نے خود سے اعراض کے طریقے پر عمل کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان آدمی کے اندر ذہنی بیداری لاتا ہے، آدمی کے اندر وہ چیز پیدا کرتا ہے جس کو تخلیقی فکر (intellectual thinking) کہا جاتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔