Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala May 2016
Al-Risala May 2016

قرآن کی تعلیم

Urdu · 2 min read

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ ۔(صحیح البخاری، حدیث نمبر 5027)تم میں اچھا وہ ہے جس نے قرآن کو سیکھا اور قرآن کو سکھایا۔اس حدیث میں تعلیم اور تعلم سے مراد صرف قرآن کے عربی متن کا تعلیم و تعلم نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مفہوم اس سے زیادہ وسیع ہے۔اس حدیث میں قرآن کے علم کے ساتھ متعلقات قرآن کا علم بھی شامل ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کے متعلق علوم سے مراد تمام انسانی علوم ہیں۔ سب سے پہلے اس میں وہ علوم شامل ہیں جن کا حوالہ قرآن میں کسی پہلو سے آیا ہے۔مثلا تاریخ ، ارضیات اور فلکیات ،وغیرہ۔ قرآن معروف معنوں میں علمی کتاب نہیں ہے۔ مگر قرآن میں مختلف علوم کے بارے میں جزئیاتی اشارے موجود ہیں۔ عالم کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان علوم کو بقدرِ ضرورت پڑھے تاکہ وہ قرآن کی علمی تشریح کرسکے۔

قرآن ایک دعوتی کتاب ہے۔ قرآن تمام انسانوں کو خطاب کرتے ہوئے ان کو اپنا پیغام دیتا ہے۔ اور پھر حکم دیتا ہے کہ قرآن کا پیغام اس طرح پیش کرو جو ان کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو(النساء63)۔ اس لحاظ سے اس حکم کے توسیعی مفہوم میں وہ تمام علوم شامل ہوجاتے ہیں جو انسان کے ذہن پر چھائے ہوئے ہیں۔ کیوں کہ ان علوم کا تجزیہ کیے بغیر آدمی قرآن کی باتوں پر یقین نہیں کرسکتا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن پر صرف ایمان لانا کافی نہیں ہے۔ بلکہ ضروری ہے کہ مومن کے اندر قرآن کی صداقت پر یقین ہو۔ یہ یقین اسی وقت پیدا ہوسکتا ہے جب کہ قرآن سے متعلق علوم کا مطالعہ کیا جائے۔ اسی طرح جو لوگ قرآن کے مدعو ہیں، ان کے اندر بھی ایک سوچ ہوتی ہے جو پیشگی طور پر ان کے اندر موجود ہوتی ہے۔ اس بنا پر ضروری ہے کہ مدعو کے سامنے قرآن کی تعلیم اس طرح پیش کی جائے کہ مدعو کو اس کی صداقت پر یقین ہوجائے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عالم مدعو کے علوم سے واقفیت حاصل کرے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content