قرآن کی تین سورتوں میں یہ آیت آئی ہے: کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (3:185) ہرشخص کو موت کا مزہ چکھنا ہے :
Every human being is bound to taste death
قرآن کا یہ بیان پوری انسانی تاریخ میں ایک واقعہ ثابت ہواہے۔ دولت، طاقت، سیاسی اقتدار، کوئی بھی چیز انسان کو موت سے بچانےوالی نہ بن سکی۔ ہر پیدا ہونے والا انسان ایک مقرر مدت کے بعد لازمی طور پر مرجاتا ہے۔ موت سے بچنا کسی بھی شخص کے لیے ممکن نہ ہوسکا۔
اگر ایسا ہوتا کہ انسان اتفاقاً پیداہو اور اتفاقاً مرجائے تو کچھ لوگ مرتے، اور کچھ لوگ لمبی مدت تک زندہ رہتے۔لیکن موت کے معاملے میں کسی فرد کا استثنا نہ ہونا ثابت کرتا ہے کہ موت کا معاملہ کوئی اتفاقی معاملہ نہیں ، بلکہ وہ فطرت کی منصوبہ بندی (planning) کا معاملہ ہے۔یہ خالق کا سوچا سمجھا فیصلہ ہے ، وہ بے سبب ہونے والا کوئی واقعہ نہیں۔
موت کا ایک تخلیقی منصوبہ ہونا، مزید یہ ثابت کرتا ہے کہ زندگی اور موت ایک بامقصد ظاہرہ ہے۔ اور جب یہ مان لیا جائے کہ زندگی اور موت کے پیچھے ایک تخلیقی مقصد ہے تو اس کے بعد لازم ہوجاتا ہے کہ انسان اس مقصد کو دریافت کرے، اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی تشکیل کرے۔اسی میں انسان کی کامیابی چھپی ہوئی ہے۔
موت کا واقعہ بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا کی تعمیر انسان کا نشانہ نہیں ہو سکتا۔ انسان کا نشانہ صرف وہ چیز ہوسکتی ہے جس میں زندگی اور موت دونوں کی توجیہہ موجود ہو،جس میں زندگی بھی بامعنی نظر آئے اور موت بھی بامعنی۔پیغمبرِ اسلام نے فرمایا : أَکْثِرُوا ذِکْرَ ہَادِمِ اللَّذَّاتِ ، یَعْنِی الْمَوْت (ابن ماجہ: حدیث نمبر 4258) یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو، جو کہ لذات کو ڈھادینے والی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لذاتِ حیات کی بنیاد پر اپنا منصوبہ نہ بناؤ،بلکہ حقائقِ موت کی بنیاد پر اپنا منصوبہ بناؤ۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔