جنت کے بارے میں ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: عن أبی سعید الخدری قال:قال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم:والذی نفس محمد بیدہ، لأحدہم أہدى بمنزلہ فی الجنة منہ بمنزلہ کان فی الدنیا۔ (صحیح البخاری: 6535) یعنی اس ہستی کی قسم جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے، جنت کا ایک شخص جنت میں اپنے گھر کو اس سے زیادہ پہچانے گا، جتنا وہ دنیا میں اپنے گھر کو پہچانتا تھا۔
دنیا میں ہر آدمی اپنا ایک مادی مسکن (physical abode) بناتا ہے، جس میں وہ موت سے قبل کے دورِ حیات میں رہتا ہے۔ موت کے بعد کے دورِ حیات میں ایک مومن اپنے اس گھر میں رہے گا، جو اس نےاپنے اسپریچول مسکن (spiritual abode)کے طور پر بنایا تھا۔
اصل یہ ہے کہ ایک سچا مومن دنیا کی زندگی میں ہر لمحہ ایک اسپریچول لائف (spiritual life) گزارتا ہے۔حقیقتِ حیات کی معرفت ، اپنے خالق سے محبت، خدا کی کتاب کا مطالعہ، رسول اور اصحابِ رسول کی زندگیوں سے سبق لینا، تخلیق میں تدبر اور تفکر، دنیا ئے معانی (world of meanings)میں ہر لمحہ اس کی دریافتیں۔یہ سب چیزیں ایک مومن کی زندگی میں ہر لمحہ ایک اعلی قسم کی ذہنی سرگرمی (intellectual activities) کے طور پر جاری رہتی ہیں۔ ان سرگرمیوں کے دوران ہر مومن اپنا ایک ربانی گھر یا اسپریچول مسکن (spiritual abode) بناتا ہے۔
یہ ربانی گھر دنیا کی زندگی میں ایک ناقابلِ مشاہدہ حقیقت کے طور پر موجود رہتا ہے۔ آخرت میں وہ ایک قابلِ مشاہدہ حقیقت کے طور پر ظاہر ہو جائے گا۔ آخرت میں بننے والی ابدی جنت میں ایک مومن اپنے اس تعمیر کردہ ربانی گھر میں رہے گا۔دنیا میں وہ اس کو فکر کی سطح پر ایک ناقابل مشاہدہ واقعہ کے طور پر جانتا تھا، آخرت میں وہ اس کو مادی سطح پر ایک قابل مشاہدہ واقعہ کی حیثیت سے معلوم کر لے گا، اور فرشتوں کی رہنمائی میں وہ اپنے اِس ابدی گھر میں داخل ہو جائے گا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔