قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ابلیس تخلیق کی ابتدا ہی میں انسان کے خلاف ہوگیا۔ اس نے چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ: میں تھوڑے لوگوں کے سوا اس کی پوری نسل کو گمراہ کر دوںگا (17:62)۔ قرآن کی دوسری آیت کے مطابق ابلیس نے اللہ سے کہا : وَلَا تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِینَ (7:17) یعنی تو بیش تر انسانوں کو شکر کرنے والا نہ پائے گا۔
ابلیس کو اتنے حتمی انداز میں اس قسم کا اعلان کرنے کی ہمت کیسے ہوئی۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا سبب یہ واقعہ تھا کہ آدم کو پیدائش کے بعد جنت میں رکھا گیا۔ آدم سے کہا گیا کہ پوری جنت تمہارے لیے ہے مگر تم ایک درخت سے دور رہنا،تم اس کا پھل نہ کھانا۔ مگر آدم اپنے آپ کو روک نہ سکے، اور جا کر اس ممنوعہ درخت (forbidden tree)کا پھل کھا لیا۔
یہ تجربہ بتارہا تھا کہ انسان اپنے مزاج کے اعتبار سے کل (whole)کو چاہے گا، وہ جزء (part) پر قانع نہ ہوگا۔ اس تجربے کی بنا پر ابلیس نے یہ منصوبہ بنایا کہ وہ انسان کے اس مزاج کو استعمال (exploit) کرے گا۔وہ لوگوں کو جزء پر قانع نہ ہونے دے گا، وہ انسان کو اکسائے گا کہ وہ کُل سے کم ملنے پر راضی نہ ہو۔ اس طرح وہ پوری نسل انسانی کو گمراہی میں ڈال دے گا۔تاریخ بتاتی ہے کہ مسلمان اور غیر مسلمان دونوں اسی فریب کا شکار ہو گئے، سب کے سب حقیقی شکر سے محروم ہو کر رہ گئے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا کا نظام آزمائش (test)کے اصول پر قائم ہے۔ اس بنا پر یہاں ہر فرد اور ہر قوم کو سب کچھ نہیں ملتا، بلکہ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ کچھ ملتا ہے اور کچھ نہیں ملتا۔ یہ معاملہ فرد کے ساتھ بھی ہے، اور قوم کے ساتھ بھی۔ لیکن فرد اور قوم دونوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ملے ہوئے پر راضی نہیں ہوتے، بلکہ نہ ملے ہوئے کو حاصل کرنا چاہتے ہیں، انفرادی دائرے میں بھی اور اجتماعی دائرے میں بھی۔ اس کا یہ نتیجہ ہے کہ فرد اور قوم دونوں ناشکری میں جیتے ہیں، وہ شکر کرنے والے نہیں بنتے— یہی پوری انسانی تاریخ کا خلاصہ ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔