Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala May 2014
Al-Risala May 2014

موت کا پیغام

Urdu · 2 min read

معروف ہندستانی صحافی خشونت سنگھ 20 مارچ 2014 کو نئی دہلی میں انتقال کرگئے- بہ وقت انتقال ان کی عمر 99 سال تھی- دنیوی اعتبار سے وہ ایک کامیاب انسان تھے- شہرت، دولت، پوزیشن، اعزاز ہر چیز انھیں حاصل تھی- وہ ایک بہت بڑے مکان میں رہتے تھے- لیکن انتقال کے وقت سب کچھ اُن سے چھوٹ گیا- دوسرے انسانوں کی طرح وہ بھی اپنی بڑائی (greatness) کا کوئی حصہ اپنے ساتھ نہیں لے گئے-

یہی ہر انسان کی کہانی ہے- موت اُس حقیقت کو یاد دلاتی ہے جس کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ولقد جئتمونا فرادی کما خلقناکم أول مرّة، وترکتم ما خوّلناکم وراء ظہورکم (6:94) یعنی تم ہمارے پاس اکیلے آگئے جیسا کہ ہم نے تم کو پہلی بار پیداکیا تھا، اور جو کچھ ہم نے تم کو دیا تھا، وہ سب کچھ تم اپنے پیچھے چھوڑ آئے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قدیم مصر کے بادشاہ فرعون نے کہا تھا : أنا ربکم الأعلى (79:24) یعنی میں تمھارا سب سے بڑا رب ہوں- شعوری یا غیر شعوری طورپر ہر آدمی اِس احساس میں جیتا ہے- ہر آدمی کسی نہ کسی بڑائی کو اپنی بڑائی سمجھتا ہے- موت اِس احساس کی نفی کرتی ہے- موت یہ بتاتی ہے کہ انسان کے پاس جو بڑائی ہے، وہ اس کے وجود کا حصہ نہیں، انسان کی ہر بڑائی ایک خارجی بڑائی ہے- موت اسی حقیقت کی عملی یاد دہانی ہے- سب سے بڑی حقیقت جو انسان کو جاننا چاہیے، وہ یہ کہ اللہ کی بڑائی اس کے اپنے وجود کا حصہ ہے، وہ کبھی اس کے وجو د سے جدا ہونے والی نہیں- اِس کے برعکس، انسان کی بڑائی اس کے وجود کا حصہ نہیں-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موت سے پہلے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی بڑائی خود اس کے وجود کا حصہ ہے، لیکن موت آتے ہی دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوجاتے ہیں- اب انسان الگ رہتا ہے اور اس کی بڑائی الگ- انسان دنیا سے آخرت کی طرف اِس طرح سفر کرتا ہے کہ اُس کا سب کچھ ہمیشہ کے لیے اِسی دنیا میں چھوٹ جاتاہے-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content