Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Al-Risala May 2014
Al-Risala May 2014

نتیجے کا فقدان

Urdu · 6 min read

گوٹن برگ کو پرنٹنگ ٹکنالوجی کا موجد سمجھا جاتا ہے- وہ 1398 میں جرمنی میں پیدا ہوا، اور1468 میں اس کا انتقال ہوا- اس کی ایجاد نے تاریخ میں پہلی بار طباعتی انقلاب پیدا کیا:

Johannes Gutenberg was a German gloldsmith who invented the mechanical movable type printing machine that sparked the printing Revolution.

نپولین (Napoleon) نے 1798 میں مصر پر حملہ کیا- وہ اپنے ساتھ پرنٹنگ پریس بھی مصر لے گیا تھا- اِس کے بعد مسلم دنیا میں طباعت کا طریقہ رائج ہونے لگا- انیسویں صدی عیسوی کے آغاز تک ساری مسلم دنیا میں پرنٹنگ پریس کا طریقہ عام ہوچکا تھا- دورِ طباعت سے پہلے قرآن ہاتھ سے لکھاجاتا تھا- اُس وقت حافظِ قرآن زیادہ ہوتے تھے اور کتابت شدہ قرآن کے نسخے بہت کم ہوا کرتے تھے- طباعتی دور میں اِس کے برعکس، قرآن کے مطبوعہ نسخے بہت عام ہوگئے، اِ س کے بعد درسِ قرآن اور مطالعہ قرآن کا رواج بہت بڑھ گیا- بیسویں صدی کے آغاز میں یہ حال ہوا کہ مسلم دنیا میں کوئی گھر، کوئی مدرسہ، کوئی ادارہ ایسا نہ رہا جہاں قرآن کا چرچا نہ ہورہا ہو- رشید رضا مصری (وفات: 1935) کی ناتمام عربی تفسیر المنار، سید قطب (وفات: 1966) کی عربی تفسیر فی ظلال القرآن، عبداللہ یوسف علی (وفات: 1953) کی انگریزی تفسیر ، سید ابو الاعلی مودودی (وفات: 1979) کی اردو تفسیر تفہیم القرآن، وغیرہ اِس کی مثالیں ہیں-

اِس طرح کے ترجمے اور تفسیریں مختلف زبانوں میں چھپ کر شائع ہوئیں- لاکھوں کی تعداد میں قرآنی مطبوعات مختلف زبانوں میں چھپ کر ہرجگہ پھیل رہی ہیں- اِن تمام کوششوں کا واحد نشانہ یہ تھاکہ قرآنی ذہن رکھنے والے افراد پیدا ہوں، لیکن راقم الحروف کی معلومات کے مطابق، مطلوب قرآنی افراد کا کہیں وجود نہیں- اپنے اِسی طرح کے ایک تجربے کو میں نے اپنے ایک مضمون میں اِس عنوان کے تحت شائع کیا تھا — بھیڑ کے درمیان سناٹا-

نتیجہ (result) کے اِس فقدان کا سبب کیا ہے- کیا وجہ ہے کہ یہ تمام قرآنی سرگرمیاں حضرت عائشہ کے اِس قول کا مصداق بن رہی ہیں: أولئک قرؤا ولم یقرؤا (انھوں نے قرآن کو پڑھا، مگر انھوں نے قرآن کو نہیں پڑھا)- اِس معاملے کی مزید توضیح ایک حدیث رسول سے ہوتی ہے- جبیر بن نفیر سے منقول ہے کہ عوف بن مالک الاشجعی کہتے ہیں کہ ایک روز ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے- آپ نے آسمان کی طرف نگاہ کی اور فرمایا: ’’وہ وقت آنے والا ہے جب کہ علم اٹھا لیا جائے گا‘‘- انصارمیں سے ایک شخص زیادہ بن لبید نے کہا: اے خدا کے رسول، کیا علم ہم سے اٹھا لیا جائے گا، حالاں کہ ہمارے درمیان خدا کی کتاب ہے اور ہم اپنے بچوں ا ور عورتوں کو اس کی تعلیم دے رہے ہیں- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم کو مدینہ کا سمجھ دار آدمی سمجھتا تھا- یہود ونصاری کیا تورات وانجیل نہیں پڑھتے، پھر بھی اس کی باتوں پر اُن کا عمل نہیں ہے- جبیربن نفیر کی ملاقات شداد بن اوس سے ہوئی- انھوںنے اُن کو یہ حدیث سنائی- انھوں نے کہا کہ عوف نے سچ کہا- پھر شداد نے کہا: جانتے ہو، علم کا اٹھ جانا کیا ہے- انھوںنے کہا کہ نہیں- شداد نے کہا: اس کے برتن کا چلا جانا (ذہاب أوعیتہ)-

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اِس حدیث میں یہ الفاظ بہت بامعنی ہیں کہ — علم اٹھا لیا جائے گا- یہاں علم سے مراد انطباق (application) کا علم ہے- یعنی قرآن کو اپنے حالات پر منطبق کئے بغیر مجرد انداز میں پڑھنا- موجودہ زمانے میں جو واقعہ پیش آیا ، وہ یہی تھا- قرآن کو لوگ غیر انطباقی انداز (non-applied way) میں پڑھنے لگے، وہ قرآن کو انطباقی انداز (applied way) میں نہ پڑھ سکے- اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن کو پڑھنے کے باوجود ان کا ذہن ایڈریس نہ ہوسکا- اِس قسم کا درسِ قرآن یا مطالعہ قرآن آدمی کو خوش عقیدگی تو دے سکتا ہے، لیکن اُس سے مطلوب قرآنی افراد پیدا نہیں ہوسکتے- مذکورہ روایت میں برتن (أوعیة) سے مراد یہ صلاحیت ہے کہ آدمی اپنے حالات کے اعتبار سے قرآن کا انطباق دریافت کرسکے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس معاملے کی ایک مثال قرآن کی ایک آیت ہے جو اُس وقت نازل ہوئی جب کہ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مخالفانہ پروپیگنڈے کیے جارہے تھے- وہ آیت یہ تھی: ورفعنا لک ذکرک (94:4) یعنی اِس پروپیگنڈے نے لوگوں کے درمیان پیغمبرانہ مشن کا چرچا بہت زیادہ بڑھا دیا ہے- لوگوں کے اندر فطری طورپر آپ کے مشن کے بارے میں تجسس (curiosity)پیدا ہوگیا ہے- اِس طرح مخالفانہ پروپیگنڈے نے آپ کے لیے دعوت کا ایک مزید موقع (opportunity)پیدا کردیاہے- آپ لوگوں کے درمیان ایک متعارف شخصیت بن گئے، لوگ آپ کے مشن کے بارے میں سوال کرنے لگے، لوگوں کے اندر بڑے پیمانے پر یہ ذہن پیدا ہوا کہ پیغمبر کا مشن کیا ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مسلمانوں کو عام طور پر قرآن کی مذکورہ سورہ (الانشر اح) یاد ہے- نمازوں میں عام طورپر اِس سورہ کی تلاوت کی جاتی ہے- لیکن موجودہ زمانے کے مسلمان اِ س سورہ کا عصری انطباق دریافت نہ کرسکے- یہ عصری انطباق کیا ہے، وہ یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں بڑے پیمانے پر پیغمبر کے خلاف منفی پروپیگنڈے کے اُس واقعے کو دہرایا گیا جو دورِ اول میں پیش آیا تھا- منفی پروپیگنڈے سے ہماری مراد وہی چیز ہے جس کو عام طورپر ’’رسول کی شان میں گستاخی‘‘ کہاجاتا ہے- ’’گستاخی‘‘ کا یہ واقعہ اپنے نتیجے کے اعتبار سے، تعارف یا پبلسٹی (publicity) کے ہم معنی تھا- اس نے بڑے پیمانے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مشن کے بارے میں تجسس کا ذہن پیدا کردیا تھا، مگر دورِ جدید کے مسلمان اصولِ انطباق سے ناواقفیت کی بنا پر اِس واقعے کو مثبت معنوں میں نہ لے سکے- وہ صرف اس کو منفی معنوںمیں لے کر اس کے خلاف غوغائی تحریکیں چلانے لگے-

یہاں اس کی چند مثالیں نقل کی جاتی ہیں— ستمبر 1988 میں سلمان رشدی کی کتاب (The Satanic Verses) کےخلاف ہنگامہ، ستمبر 2005 میں ڈنمارک کے اخبار میں شائع شدہ کارٹون کے خلاف ہنگامہ، جولائی 2010 میںامریکا کے پادری ٹیری جونس کے خلاف ہنگامہ ، ستمبر 2012 میں ’’انوسینس آف مسلمس‘ (Innocence of Muslims)کے نام سے امریکا میں بننے والی فلم کے خلاف ہنگامہ، وغیرہ-

اِس سلسلے میں سی پی ایس انٹرنیشنل(نئی دہلی) کا تجربہ قابلِ نقل ہے- پچھلے برسوں میں جب مذکورہ حالات پیداہوئے تو سی پی ایس کے لوگوں نے برسوں کی محنت کے بعد انگریزی زبان میں قرآن کا ایک ایسا ترجمہ تیار کیا جو وقت کے اسلوب میں ہو اور بہ آسانی قابلِ فہم (easily understandable) ہو- پھر اس ترجمے کو خوب صورت انداز میں چھاپ کرانھوں نے دنیا کے مختلف ملکوں میں وہاں کے غیر مسلموں کے درمیان بڑے پیمانے پر تقسیم کرنا شروع کردیا- یہ کام نہایت منظم انداز میں 2008 سے جاری ہے- سی پی ایس کے افراد کا مشترک تجربہ یہ ہے کہ جب بھی وہ کسی غیر مسلم کو قرآن کا انگریزی ترجمہ یہ کہہ کر پیش کرتے ہیں کہ — سر،یہ آپ کے لیے اسپریچول گفٹ ہے (Sir, this is a spiritual gift for you!) تو وہ بہت شوق سے اُس کو اِس طرح لیتا ہے جیسے کہ وہ بہت پہلے سے قرآن کا انتظار کررہا تھا-

unverifiedAttribution could not be verified automatically

یہ قرآن کے انطباقِ نو (reapplication)کی ایک مثال ہے- اِس طرح کے انطباقِ نو کے مواقع موجودہ زمانے میں کثرت سے موجود ہیں، مگر مذکورہ روایت کے الفاظ میں، ’’أوعیة‘‘ کی غیرموجودگی کی بنا پر ان کا استعمال ممکن نہ ہوسکا- حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا سب سے بڑا مشن دعوت الی اللہ ہے- وہ چیز جس کو مخالفانہ پروپیگنڈہ کہاجاتا ہے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، دعوت کے لیے نئے مواقع پیداہونے کے ہم معنی ہے- اگر صحیح شعور زندہ ہو تو مسلمان ایسے ہر موقع کو غوغائی تحریک کے بجائے دعوتی مقصد کے لیے استعمال کریں- اِس طرح وہ منفی واقعات کو مثبت نتیجے کی صورت دینے میں کامیاب ہوجائیں گے- یہی وہ اعلی بصیرت ہے جس کو قرآن میں حکمت اور حدیث میں فراستِ مومن کے الفاظ سے تعبیر کیاگیا ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content