انسان کے مقصد ِ تخلیق کے بارے میں قرآن میں مختلف آیتیں آئی ہیں- اُن میں سے ایک آیت یہ ہے: اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰکُمْ عَبَثًا وَّاَنَّکُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ (23:115) یعنی کیا تم نے یہ گمان کررکھا ہے کہ ہم نے تم کو بے مقصد پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤگے-
انسان کو اس کے پیدا کرنے والے نے بہترین صورت (40:64) پر پیدا کیا ہے- انسان ساری کائنات میں ایک مکرم مخلوق (17:70) کی حیثیت رکھتا ہے- انسان کواس کے پیدا کرنے والے نے بہترین صلاحیتیں عطا کی ہیں (95:4)- انسان کو استثنائی طورپر عقل دی گئی ہے جو کسی بھی دوسری مخلوق کو حاصل نہیں (68:23)-
حقیقت یہ ہےکہ انسان اپنی تخلیق کے اعتبار سے، ایک انتہائی با معنی مخلوق ہے- انسان کی تخلیق میں ایک انتہائی ذہین ڈیزائن (intelligent design) پائی جاتی ہے- اِس تخلیق میں یہ واضح اشارہ موجود ہے کہ انسان سے اس کے خالق کو اِس دنیا میں ایک مثبت کردار (positive role) مطلوب ہے مگر عجیب بات ہے کہ عام طورپر انسان اس کے برعکس منفی کردار ادا کرتا رہا ہے- یہ بلاشبہہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا سوال ہے-
اِس سوال کا جواب ایک حدیثِ رسول کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے: أکثروا ذکر ہادم اللذات الموت (الترمذی، رقم الحدیث:2307) یعنی تم موت کو بہت زیادہ یاد کرو جو لذتوں کو ڈھا دینے والی ہے- اِس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ انسان وقتی لذتوں میں گم ہوکر اُس اعلی رول کو اداکرنے میں ناکام رہتا ہے جو اس کے لیے اس کی صلاحیت کے اعتبار سے مقدر کیا گیا ہے- انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اِس معاملے میں اپنے شعور کو بیدار کرے- وہ خالق کے اِس اشارے کو سمجھے کہ اگر میں نے خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق، اپنے آپ کو خدائی مشن سے لگایا جو کہ میری صلاحیتوں کا اصل استعمال ہے تو اس کے بعد میری زندگی کی تمام ضرورتوں کی اعلی تکمیل خود خالق کی طرف سے کی جائے گی-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔