← Al-Risala May 2013Al-Risala May 2013
خبرنامہ اسلامی مرکز— 222
Urdu · 12 min read
1- چنئی (تمل ناڈو) میں 11-20 جنوری 2013 کے درمیان وہاں کے ساحلی ایریا (اتھنڈی) میں ایک پیس کانفرنس ہوئی- یہاں گڈ ورڈ بکس نے اپنا اسٹال لگایا- اسٹال کا انتظام مسٹر ممتاز راجہ نے سنبھالا-
2- چنئی (تمل ناڈو) کے وائی ایم سی اے گراؤنڈ میں 11-23 جنوری 2013 کے دوران چنئی بک فیر ہوا- اِس میں گڈورڈبکس نے شرکت کی- یہاں بک اسٹال کا انتظام مسٹر فرقان خاں نے سنبھالا- یہاں مقامی طورپر الرسالہ سے وابستہ عمری گروپ کے ساتھیوں نے وزٹرس سے مل کر اُن کو دعوتی پمفلٹس دئے-
3- ہمار ے ساتھی مقامی طورپر دعوہ ورک کرنے کے ساتھ سفر کے دوران بھی دعوتی کام کرتے ہیں- مثلاً ہمارے ایک ساتھی مسٹر حمید اللہ حمید (کشمیر) نے جنوری 2013 کے تیسرے ہفتے میں ساؤتھ انڈیا کے مختلف پروگراموں میں شرکت کے لیے وہاں کا سفر کیا- اِس دوران انھوں نے اعلی تعلیم یافتہ لوگوں سے مل کر ان کے سامنے اسلام کا مثبت تعارف پیش کیا- انھوں نے لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی میٹریل برائے مطالعہ دیا-
4- جمشید پور (جھارکھنڈ) میں ہمارے ساتھی دعوہ ورک کررہے ہیں- وہ مختلف موقعوں پر لوگوں سے مل کر ان کو دعوتی لٹریچر پیش کرتے ہیں- مثلاً 13 جنوری 2013 کو ٹیلکو اسکول میں ایک کوئز کامپٹیشن ہوا- اِس کی دعوت پر ہمارے ایک ساتھی مسٹر ایاز احمد نے اس میں شرکت کی اور القرآن مشن کا تعارف کرایا- اِسی طرح 17 فروری 2013 کو ’’قرآن فار آل‘‘ کے پروگرام کے تحت اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا-
5- نئی دہلی کے ادارہ اسلامک فاؤنڈیشن(IFSE)کی طرف سے 20 جنوری 2013 کو ایوانِ غالب (نئی دہلی) میں قرآن کے موضوع پر ایک کانفرنس ہوئی- اِس کی دعوت پر ہمارے ساتھیوں نے اس میں شرکت کی اور باہر سے آئے ہوئے مقررین کو صدر اسلامی مرکز کی نئی تصنیف ’’کتابِ معرفت‘‘ برائے مطالعہ دی- اِس کے علاوہ، یہاں خود اسلامک فاؤنڈیشن کی طرف سے ہمارے یہاں کے مطبوعہ تراجمِ قرآن حاضرین کو بطور ہدیہ پیش کیے گئے-
6- روحانی مرکز (سہارن پور) میں 25 جنوری 2013 کو ایک پروگرام ہوا- اِس میں دہلی اور اطراف کےمقررین نے شرکت کی- اِسی طرح شام کو شہر میں ایک دوسرا پروگرام ہوا- یہاںحاضرین کو مطالعے کے لیے دعوتی لٹریچر دیا گیا-
7- نئی دہلی کے ٹی وی چینل اسٹار نیوز کی ٹیم نے یکم فروری 2013 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ریڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا- یہ انٹرویو ’’وشوروپم‘‘ فلم کے بارے میں حالیہ تنازعہ سے متعلق تھا- سوالات کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیاکہ یہ آزادی رائے کا زمانہ ہے- اگر اِس فلم پر کسی کمیونٹی کو کوئی اعتراض ہے تو اس کو چاہئے کہ وہ اِس معاملے میں ذمے داروں سے مل کر بات کرے- اس کے خلاف احتجاج اور ہنگامہ آرائی اسپرٹ آف ایج (spirit of age) کے خلاف ہے، نیز احتجاج کا طریقہ کسی مسئلے کا کوئی حقیقی حل نہیں-
8- لاہور (پاکستان) سے جیو ٹی وی (اردو) نے 2 فروری 2013 کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا- یہ انٹرویو موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے فکری مسائل پر تھا- سوالات کے دوران موضوع کی وضاحت کی گئی- ایک سوال اسلام کی سیاسی تعبیر کے بارے میں تھا-
9- رام لیلا گراؤنڈ (نئی دہلی) میں 3 فروری 2013 کو شری شری روی شنکر کی طرف سے والنٹیرس فار بٹر انڈیا (Volunteers for better India)کے موضوع پر ایک آل انڈیا کانفرنس ہوئی-اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اپنی ٹیم کے ساتھ اس میں شرکت کی- اِس موقع پر سی پی ایس انٹرنیشنل کی دعوہ فیلڈ ٹیم(DFT) کے تعاون سے رام لیلا گراؤنڈ میں ایک بک اسٹال لگایا گیا- یہاں سی پی ایس کے ممبران کی طرف سے خرید کر حاضرین کو کئی ہزار کی تعداد میں قرآن کا ہندی، انگریزی ترجمہ اور دعوتی بروشر بطور گفٹ دیاگیا- خاص طورپر ملک وبیرونِ مل سے آئے ہوئے خصوصی مہمانوں کو پرافٹ آف پیس اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا-
10- نئی دہلی کے پرگتی میدان میں 10-4 فروری 2013 کے دوران ورلڈ بک فیر ہوا- یہاں پرگتی میدان کے ہال نمبر 14 اور ہال نمبر 18 میں گڈورڈ بکس نے اپنا اسٹال لگایا- اِس موقع پر سی پی ایس کی دعوہ فیلڈ ٹیم (DFT) نے بک فیر کے وزٹرس کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی پمفلٹس دئے- بک فیر میں کئی آتھرس کارنر (Author's Corner) تھے- یہاں ہمارے ساتھیوں نے مختلف مصنفین سے مل کر ان کو دعوتی لٹریچر دیا- مثلاً مشہور انگلش رائٹررسکن بانڈ (Ruskin Bond) کو پرافٹ آف پیس اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا-
11- آن لائن میگزین مسلم مرر (Muslim Mirror) کے ایڈیٹر سید زبیر احمد نے 10فروری 2013 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا- یہ انٹرویو مسلمان اور موجودہ حالات کے موضوع پر تھا- سوالات کے دوران موضوع کی وضاحت کی گئی- یہ انٹرویو انگریزی زبان میں تھا-
12- یروشلم (فلسطین) میں 10-15 فروری 2013 کے دوران ایک انٹرنیشنل بک فیر ہوا- یہاں گڈ ورڈ بکس نے اپنا اسٹال لگایا- یہاں سے بڑی تعداد میں وزٹرس نے قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر حاصل کیا- نیزاسٹال پر انگریزی کے علاوہ، عبرانی ترجمہ قرآن بھی رکھا گیا تھا-
13- نئی دہلی کے سی بی سی آئی سنٹر (گول ڈاک خانہ) میں 21 جنوری 2013 کو ایک خیر مقدمی تقریب ہوئی- وہ نئی دہلی کے نئے آرک بشپ (Anil Couto) کی آمد کے موقع پر تھی- اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اپنے ساتھی مسٹر رجت ملہوترا کے ساتھ اس میں شرکت کی اور انگریزی زبان میں ایک مختصرخطاب کیا- یہ خطاب اسلام اور امن (Islam & Peace)کے موضوع پر تھا- اِس پروگرام میں مختلف مذاہب کی نمائندہ شخصیتوں نے شرکت کی- یہاں حاضرین کو سی پی ایس کی طرف سے قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیاگیا-
14- یکم مارچ 2013 کو نئی دہلی کے اسلامک اسٹڈیز اسوسی ایشن (ISA) سے وابستہ 6 مسیحی علما صدراسلامی مرکز سے ملاقات کے لیے آئے- اس کے نمائندہ وکٹر ایڈون (Victor Edwin SJ) تھے- گفتگو کا موضوع— مسلم کرسچین ڈائلاگ تھا- سوالات کے دوران موضوع کی وضاحت کی گئی ہے-
15- اسلامک اسٹڈیز اسوسی ایشن(ISA) کی طرف سے 2 مارچ 2013 کو نئی دہلی کے سینٹ زیویرس اسکول (St. Xavier's School) میں Muslim Experience of Life کے موضوع پر ایک سیمنار ہوا- اس کی دعوت پر سی پی ایس کے ممبران نے اس میں شرکت کی اور حاضرین کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا- مز ماریہ خان نے سی پی ایس کی نمائندگی کرتے ہوئےیہاں موضوع پر انگریزی زبان میں ایک تقریر کی-
16- سی پی ایس کے تحت مختلف اجتماعی مقامات پر قرآن کا انگریزی ترجمہ برائے تقسیم رکھا جاتا ہے- مثلاًہوٹل اسپتال، وغیرہ- اِس سلسلے میں یکم مارچ 2013 کو نئی دہلی کے راجیو گاندھی کینسر انسٹی ٹیوٹ اینڈ رسرچ سنٹر میں قرآن کا انگریزی ترجمہ رکھاگیا- لوگ یہاں سے بخوشی اس کو حاصل کررہے ہیں-
17- مُکل اکیڈمی (سہارن پور) میں 6 مارچ 2013 کو نیشنل میڈیکل کالج کے تعاون سے ایک سیمنار ہوا- اِس کا موضوع تھا — پیغمبر اسلام: ایک آدرش چرتر- اِس میں 40 کالج کے اسٹوڈنٹس کو شریک کیا گیا- اِس کی دعوت پر سہارن پور کے ساتھیوں کی ٹیم نے اِس پروگرام میں شرکت کی اور سیرتِ رسول کے مذکورہ موضوع پر اظہار خیا ل کیا- یہاں حاضرین کو مطالعے کے لیے دعوتی لٹریچر دیا گیا-
18- نئی دہلی کی انڈین کاؤنسل فار کلچرل ریلیشنس (ICCR) کی طرف سے 9مارچ 2013 کو انڈیا انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) کے ملٹی پرپز ہال میں ایک انٹرفیتھ کانفرنس ہوئی- اِس کا موضوع یہ تھا:
On World Religions: Diversity, Not Dissension
اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی- یہ ایک پینل ڈسکشن تھا جس میں صدر اسلامی مرکز کے علاوہ، ایچ ایچ دلائی لاما، ریویرینڈ ٹوٹو(Mpho Tutu) اور ڈاکٹر کرن سنگھ شریک تھے- یہاں صدر اسلامی مرکز نے اپنے خطاب اور سوالات کے دوران اسلام کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کی- خطاب کے بعد لوگوں نے صدر اسلامی مرکز سے مل کر کہا کہ آپ کی بات سن کر ہم کو قرآن سے دلچسپی پیدا ہوگئی ہے- اب ہم ضرور قرآن کا مطالعہ کریں گے- اِس موقع پر دعوہ فیلڈ ٹیم (DFT) کی طرف سے لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیاگیا-
19- گاندھی میدان (پٹنہ، بہار) میں 24-13 مارچ 2013 کو ایک بک فیر ہوا- اِس میں نئی دہلی سے گڈورڈبکس نے شرکت کی- اسٹال کا انتظام شاہ عمران حسن نے سنبھالا- اِس کے علاوہ، ہمارے کئی مقامی ساتھیوں نے یہاں اپنا تعاون دیا- انھوں نے وزٹرس سے مل کر اُن سے مشن کو متعارف کیا اور ان کو دعوتی پمفلٹس دئے-
20- افریقی جزیرہ ماریشش (Mauritius) کے سوامی وویکانند انٹرنیشنل کنونشن سینٹر (Les Pailles) میں 7-10 مارچ 2013 کے دوران ایک انٹرنیشنل بک فیر ہوا- اِس میں گڈ ورڈ بکس نے شرکت کی- اسٹال پر کافی لوگوں نے وزٹ کیا اور دعوتی لٹریچر حاصل کیا- خاص طورپر وزٹ کے دوران ماریشش کے وزیر اعظم مسٹر نوین رام غلام (Navin Ramgoolam) کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا- اسٹال کا انتظام مسٹر ممتاز راجہ نے سنبھالا-
21- نیوز ایکسپریس ٹی وی (نوئڈا)کے نمائندہ مسٹر راشد احمد خان نے 11 مارچ 2013 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا- انٹرویو کا موضوع یہ تھا — مائنارٹی افیرس (Minority Affairs) -
22- انڈیا اور انڈیا سے باہر کے دوسرے مقامات کی طرح سہارن پور (یوپی) میں ہمارے ساتھی مسلسل طورپر دعوہ ورک کررہے ہیں- مثلاً سہارن پور کے تین ٹی وی چینل پر ہمارے ساتھیوں نے ایک اشتہار دیاہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اُن کے مقامی سنٹر(پیس ہال) سے اردو، ہندی اور انگریزی ترجمہ قرآن مفت حاصل کیا جائے- اِس کی وجہ سے روزانہ لوگ رابطہ کرکے یہاں سے قرآن کے تراجم حاصل کررہے ہیں-
23- دعوتی لٹریچر اور الرسالہ مشن سے متعلق قارئین کے چند تاثرات یہاں درج کیے جاتے ہیں:
الرسالہ کے مطالعہ سے میری ذاتی زندگی میں بے حد مثبت تبدیلی آئی ہے- یہ کہنا درست ہے کہ الرسالہ نے مجھے زندگی کی حقیقتوں کو پہچاننے اور ان کا حوصلہ مندی کے ساتھ سامنا کرنے کی سمجھ دی ہے- میں نے ہمیشہ اپنے اطراف خواتین کو ایک دوسرے کی برائی، غیبت، چغلی اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے سطحی مشغلوںمیں مصروف دیکھا ہے- خواہ وہ گھریلو خواتین ہوں یا تعلیم یافتہ اور working women -الرسالہ کے مطالعہ سے الحمد للہ میں اِس قابل ہوئی کہ میری فکری سطح ان ساری باتوں سے اوپر اٹھ چکی ہے-ایک عورت کا مقصدِ حیات کیا ہے، یہ میں نے الرسالہ کی تحریروں میں پایا ہے- الرسالہ نے مجھے یہ سمجھ دی کہ کسی کے منفی عمل کا جواب دے کر ہم اللہ کی نصرت سے محروم ہوجاتے ہیں، کیوں کہ جب ہم ردّ عمل نہ کریں تو اللہ کے فرشتے ہماری طرف سے اس کا جواب دیتے ہیں، اور بلاشبہہ اس سے بڑی کوئی بات نہیں ہوسکتی-الرسالہ مشن ایک خاتونِ خانہ کے لیے بھی اتنا ہی مفید ہے جتنا کہ ایک مرد کے لیے- ازدواجی زندگی کے لیے مولانا نے ایک نصیحت کی تھی، وہ ہےیک طرفہ ایڈجسٹ مینٹ- یہ صد فی صد صحیح فارمولا ہے ایک اجنبی ماحول نیز اجنبی افراد کے دل میں جگہ بنانے کا- الرسالہ کے مضامین اور ’’نکاح اور کامیاب ازدواجی زندگی‘‘ (خاندانی زندگی) پڑھنے سے الحمد للہ میں تیار ذہن کے ساتھ ازدواجی زندگی شروع کرسکی ہوں، ورنہ منفی ذہنیت اور شکایت میری ذات کا حصہتھی- ایسانہیں ہے کہ ناخوش گوار بات پیش نہ آتی ہو، زندگی میں ہر دن ایک ناموافق اور ناخوش گوار بات پیش آتی ہے، لیکن الرسالہ کی تربیت نے مجھے ان مسائل کو چیلنج سمجھنے کی صلاحیت دی ہے- الرسالہ نے حقیقت پسندانہ انداز میں اجتماعی زندگی گزارنے کے اصول سکھائے ہیں- ماں باپ، بھائی بہن کے برتاؤ سے لے کر سُسرالی رشتہ دار، شوہر، نیز بچوں کی تربیت وغیرہ تک ہر موڑ پر الرسالہ کے مضامین بے حد کار آمد ہیں- ضرورت صرف سنجیدگی کے ساتھ اور کھلے ذہن سے پڑھنے کی اور ان اصولوں کو اپنی روز مرّہ کی زندگی میں اختیار کرنے کی ہے- اِسی کے ساتھ خود احتسابی کی اشد ضرورت ہے- اللہ کے فضل سے میں نے یہ طے کیا ہے کہ میں اپنے گھر کو ’’بگاڑ کا کارخانہ‘‘ بننے نہیں دوں گی ،ان شاء اللہ - (اے ایم بشری، حیدرآباد، انڈیا)
— Dear Maulana, I was getting astray, Allah saved me through you, thanks a lot. After reading about the Prophet and the Life of the Prophet, I was very satisfied with his life and he impressed me the most. I met a person who is a regular reader of Al Risala in my college, I talked to him many times and saw him talking wisdom and he was behaving very much well. I thought to read Al Risala but was not able to. Even I recieved first copy of Al Risala in 2011 through a person of my town, but I was not reading. I read Al-Risala many times and thanked Allah so much. I got answer to my questions. I got what I was seeking from many years. It removed my misconceptions and guided me in many matters. Now I’m a regular reader of Al-Risala. I read it 30 times every month. (Faheem Khan, J&K)
— Dear Maulana, please allow me this opportunity to express my sincerest thanks for your important work. Writing to you from the northernmost university town of Umeå, Sweden, I am currently working on a PhD dissertation on Islamic nonviolence. Since I find your work crucial for any in-depth study of the field, a selection of your works will be an important addition to the chapter describing Islamic non-violent thinking and theology. Also, for this reason I would very much like to come to India in order to gain a deeper understanding of the context of your work and hopefully also conduct a formal interview with yourself for the purposes of my research. With hopes that you will find the idea of a Swedish dissertation on Islamic nonviolence somewhat interesting and most of all that you will agree to a meeting at your convenience and share your thinking with a Swedish audience.
(Mattias Dahlkvist, Umeå University, Sweden)