ایک مشہور مسلم لیڈر اگست 2012 میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے ترکی گئے- وہاں انھوں نے میڈیا کو انٹرویو دیتےہوئے کہا کہ — یہ بہت اچھی بات ہے کہ ترکی نے مغرب کے بجائے مشرق کی طرف دیکھنا شروع کردیا ہے:
It is very good that Turkey has started looking East instead of West.
انسانیت کو مشرق اور مغرب میں تقسیم کرنے کا ذہن ایک قومی ذہن ہے-ایک قومی لیڈر اس قسم کے الفاظ بول سکتا ہے، لیکن ایک مسلمان ایسے الفاظ بولنے کا تحمل نہیں کرسکتا، کیوں کہ اسلام ایک قومیت نہیں، بلکہ وہ ایک انسانی مشن ہے- رُڈیارڈ کپلنگ (Rudyard Kipling) ایک برٹش شاعر اور اسٹوری رائٹر تھا- وہ 1865 میں ممبئی میں پیدا ہوااور 1936 میں اس کی وفات ہوئی- رڈیارڈ کپلنگ نے کہا تھا کہ مغرب، مغرب ہے اور مشرق، مشرق - دونوں کبھی ایک دوسرے سے نہیں مل سکتے:
West is West and East is East, and the twain shall never meet.
اِس قسم کی سوچ سرتاسر غیر داعیانہ سوچ ہے- مومن کا مشن عالمی دعوت کا مشن ہے- یہ ذہن فطری طورپر مومن کے اندر آفاقیت پیدا کرتا ہے- اس کا نشانہ پوری انسانیت ہوتی ہے- وہ قومی تعصب سے یکسر خالی ہوتاہے- وہ سارے انسانوں کا خیر خواہ ہوتا ہے- وہ سارے انسانوں کو ایک فیملی کی طرح اپنا سمجھتا ہے- حقیقت یہ ہے کہ مومن ’’ہم اور وہ‘‘(We and They) کے تصور سے ناآشنا ہوتا ہے- اِس کے بجائے مومن کا تصور ’’ہم اور ہم‘‘ (We and We) کے تصور پر مبنی ہوتا ہے- قرآن میں بتایا گیاہےکہ اللہ تمام انسانوں کا رب ہے- یہی وہ عقیدہ ہے جو مومن کا ذہن بناتا ہے- مومن اپنے عقیدے کے اعتبار سے، اس کا تحمل نہیں کرسکتا کہ وہ انسان کو مشرق اور مغرب میں بانٹے- مومن کی نظر میں ہر ایک اس کا ہے اور وہ ہر ایک کا- یہی وہ تصور ہے جو مومن کی اخلاقیات کی تشکیل کرتاہے اور یہی وہ آفاقی تصور ہے جو مومن کے اندر یہ عالمی خیر خواہی پیدا کرتاہے کہ وہ تمام دنیا والوں کی ہدایت کا حریص بن جائے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔