Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala May 2008
Al-Risala May 2008

مسئلے کا حل

Urdu · 2 min read

ایک بار میں یورپ کے ایک شہر میں گیا۔ وہاں میں ایک عرب نوجوان کے ساتھ مقیم تھا۔ وہ یہاں سیاسی پناہ(political asylum) کے تحت رہتے تھے۔ انھوںنے ایم اے کرنے کے بعد تعلیم چھوڑ دی تھی۔ میںنے اصرار کیا کہ وہ ڈاکٹریٹ بھی ضرور کریں۔ چناں چہ انھوں نے وہاں کی ایک یونی ورسٹی میں ڈاکٹریٹ کے لیے اپنا رجسٹریشن کروالیا۔

کچھ عرصے بعد دوبارہ مجھے اس مغربی شہر میں جانا پڑا۔ وہاں میں مذکورہ عرب نوجوان کے ساتھ مقیم تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ڈاکٹریٹ کے لیے انھوں نے ریسرچ کا کام شروع کیا تھا، لیکن اب وہ چھوٹ گیا ہے۔ اب وہ مزید تعلیم کا کام نہیں کررہے ہیں۔ میں نے وجہ پوچھی تو انھوںنے بتایا کہ ایک عرب خاتون کے ساتھ انھوں نے شادی کی ہے۔ یہ عرب خاتون انگریزی زبان بالکل نہیںجانتیں۔ اِس بنا پر وہ یہاں باہر کاکوئی کام نہیںکرسکتیں۔ چناں چہ گھر کے سارے کام مجھ کو کرنے پڑتے ہیں۔

میں نے سخت انداز میں ان کو نصیحت کی۔ میں نے کہا کہ تعلیم کو چھوڑنے کے لیے یہ کوئی عذر نہیں۔ میںنے کہا کہ آپ تعلیم جاری رکھیں، بقیہ مسائل اپنے آپ حل ہوجائیں گے۔ میںنے اُن کو زندگی کا یہ فارمولا بتایا کہ — مسئلے کو حل نہ کرنا بھی مسئلے کو حل کرنے کا ایک طریقہ ہے:

Not to solve the problem, is also a way of salving the problem.

کچھ عرصے بعد تیسری بار مجھے اُس مغربی شہر جانے کا اتفاق ہوا۔ مذکورہ عرب نوجوان نے خوشی کے ساتھ بتایا کہ میںنے آپ کے بتائے ہوئے فارمولے پر عمل کیا، اور اب میری بیوی بقدر ضرورت انگریزی بولنا سیکھ گئی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ مجبورانہ صورتِ حال(compulsive situation) بھی مسئلے کو حل کرنے کی ایک کامیاب صورت ہے۔ مجبورانہ صورتِ حال اپنے آپ آدمی کے لیے ایک طاقت ور معلم بن جاتی ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.