Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala May 2005
Al-Risala May 2005

لڑے بغیر مقابلہ

Urdu · 2 min read

صحابی ٔ رسول حضرت عبد اللہ بن عباس کا ایک قول ہے: إدفع بحلمک جہل من یجہل علیک (تم برداشت کے ذریعہ اس شخص کا مقابلہ کرو جو تمہارے ساتھ جہالت کرے)۔ یہ زندگی کا ایک اہم ترین اُصول ہے۔ اس کے مطابق، برداشت بھی ایک طاقت ہے، نہ لڑنا بھی لڑنے کی ایک کامیاب تدبیر ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ہر آدمی کی زندگی میںایسے مواقع پیش آتے ہیں جب کہ کسی کی بات پر اس کو غصہ آجائے۔ کسی کا قول سُن کر وہ مشتعل ہوجائے۔ کسی کی ایک ناپسندیدہ کارروائی پر اُس کے اندر انتقام کا جذبہ بھڑک اُٹھے۔ کسی کے تشدد کے خلاف آدمی کے اندر جوابی تشدد کا رجحان پیدا ہوجائے۔

اس قسم کا موقع ہر آدمی کے لیے بے حد نازک موقع ہوتا ہے۔ ایسے مواقع پر ہر آدمی وقتی جذبہ کے تحت فریق ثانی سے لڑائی شروع کردیتا ہے۔ لیکن اگر نتیجہ کے اعتبار سے دیکھا جائے تو ایسی ہر لڑائی بے نتیجہ انجام پر ختم ہوتی ہے۔ ایسی ہر لڑائی ہمیشہ نقصان میں مزید اضافہ کا سبب بنتی ہے۔ اگر آدمی ایک لمحہ ٹھہر کر سوچے تو وہ کبھی جوابی کارروائی کی غلطی نہ کرے۔

نادان کی زیادتی کے خلاف جوابی زیادتی کرنا خود اپنے آپ کو بھی نادان ثابت کرنا ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص نادانی کرکے آپ کو مشتعل کردے تو آپ اس مقام سے ہٹ جائیں اور تھوڑی دیر کے لیے اپنے ذہن کو منفی تاثر سے آزاد کرکے نتیجہ کے بارہ میں سوچیں۔ آپ ٹھنڈے ذہن کے ساتھ یہ غور کریں کہ نتیجہ کے اعتبار سے جوابی کارروائی کرنا مفید ہے یا معاملہ کو نظر انداز کرکے چپ ہوجانا زیادہ مفید۔

اگر آپ غیر متاثر ذہن کے تحت سوچیں تو یقینا آپ اس رائے پر پہنچیں گے کہ اشتعال کے مواقع پر سب سے زیادہ کامیاب پالیسی یہ ہے کہ آپ مشتعل ہونے سے بچیں۔ آپ جوابی اشتعال کے بجائے تحمل کے ساتھ صورت حال کا مقابلہ کریں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content