Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala March 2022
Al-Risala March 2022

غصہ پی جانا

Urdu · 2 min read

قرآن میں ایک اہم اخلاقی اصول بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ اجتماعی زندگی میں جب ایک آدمی کو دوسرے کے اوپر غصہ آئے تو اس کو چاہیے کہ وہ غصہ کو پی جائے اور اس کو معاف کردے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی آیت یہ ہےوَإِذَا مَا غَضِبُوا ہُمْ یَغْفِرُونَ (42:37)۔ اور جب ان کو غصہ آتا ہے تو وہ معاف کردیتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اصل یہ ہے کہ آدمی ہمیشہ کچھ لوگوں کے درمیان زندگی گزارتا ہے۔ لوگوں کی طرف سے اس کو بار بار ناخوش گوار قسم کے تجربات پیش آتے ہیں۔ اِن ناخوش گوار تجربات کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ اس کے اندر بطور ردّ عمل طرح طرح کے غیر حقیقی جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ مثلاً غصہ، وغیرہ۔

غصہ ایک غیر فطری حالت ہے، اور غصہ پرکنٹرول کرنا، زندگی کی شاہ کلید (master key) ہے۔ جس انسان نے غصہ کو کنٹرول کرنے کا آرٹ سیکھ لیا، اس نےکامیاب زندگی کا راز پالیا۔جب آدمی کوغصہ آتا ہے تو اس کادماغ اپنی فطری حالت پر باقی نہیں رہتا۔ وہ معتدل انداز میں سوچنے پر قادرنہیں رہتا۔ غصہ میں مبتلا انسان نہ درست طور پر سوچ پاتا اور نہ درست طور پر اپنے عمل کی منصوبہ بندی کر سکتا ۔ غصہ کسی آدمی کااعتدال چھین لیتا ہے۔ وہ اس کو غیر معتدل انسان بنا دیتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ غصہ کو پی جانا خود اپنے آپ کی حفاظت کرنا ہے۔ غصہ کو پی جانا اس بات کی ضمانت ہے کہ آدمی حقیقت پسندانہ انداز میں سوچے۔ وہ زیادہ نتیجہ خیز انداز میں اپنی کارروائی کی منصوبہ بندی کرے ۔ غصہ کو پی جانا خارجی اعتبار سے ایک اخلاقی سلوک ہے۔ مگر داخلی اعتبار سے وہ اپنی تعمیر کے ہم معنی ہے۔ جب کوئی آدمی غصہ کے حالات میں غصہ نہ کرے تو وہ اپنے آپ کو بچاتا ہے۔ وہ اپنی قوت کو منفی رخ پر جانے سے روکتا ہے اور اس طرح اپنے آپ کو اس قابل بنا تا ہے کہ وہ اپنے وسائل کو بھر پور طور پر صرف اپنی تعمیر میں لگائے ۔ دوسرے کی تخریب میں غیر ضروری طور پر وہ اپنے وسائل کا کوئی حصہ ضائع نہ کرے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content