Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala March 2022
Al-Risala March 2022

شکر سے اضافہ

Urdu · 2 min read

سورہ ابراہیم میں فطرت کاایک قانون بتایا گیا ہے ۔ وہ یہ کہ خدا کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق، اس دنیا میں شکر کرنے سے اضافہ ہوتا ہے۔ یہ قانون قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہےوَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَأَزِیدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِی لَشَدِیدٌ (14:7)۔ یعنی، اور جب تمہارے رب نے تم کو آگاہ کر دیا کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو زیادہ دوں گا۔ اور اگر تم ناشکری کرو گے تو میراعذاب بڑاسخت ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی اس آیت میںجو بات کہی گئی ہے وہ کوئی پراسرار بات نہیں۔ وہ معلوم اسباب کے تحت پیش آنے والا ایک واقعہ ہے۔ یہ واقعہ ہر ایک کے ساتھ پیش آتا ہے ، فرد کے لیے فرد کی حیثیت سے اور گروہ کے لیے گروہ کی حیثیت سے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

شکر دراصل اعتراف (acknowledgement) کانام ہے۔ انسان کی نسبت سے جس چیز کو اعتراف کہا جاتا ہے اسی کو خدا کی نسبت سے شکر کہا گیا ہے۔ شکر یہ ہے کہ خدا نے آدمی کو جو کچھ دیا ہے، دل کی گہرائیوں کے ساتھ وہ اس کااعتراف کرے۔

یہ شکر یا اعتراف کوئی سادہ چیز نہیں۔ اس کا رشتہ نہایت گہرائی کے ساتھ آدمی کی نفسیات سے جڑاہوا ہے۔ شکر کرنے والے آدمی کے اندر تو اضع ،حقیقت پسندی، اعتراف حق، سنجیدگی اور ذمہ داری کا احساس پیداہوتا ہے۔ یہ احساسات اس کے کردار میں نمایاں ہوتے ہیں جو اس کو ترقی کی طرف لے جاتے ہیں۔

اس کے برعکس، معاملہ ناشکری کا ہے۔ ناشکری سے آدمی کے اندر سرکشی، حقیقت سے اعراض، بے اعترافی ، غیر سنجیدگی اور غیر ذمہ داری جیسی پست صفات پیداہوتی ہیں ۔ اور جس آدمی کے اندر اس قسم کی پست صفات پائی جائیں اس کی ترقی یقینی طور پر رک جائے گی ۔ حتیٰ کہ ممکن ہے کہ وہ ملے ہوئے کو بھی کھو دے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content