Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala March 2022
Al-Risala March 2022

حالات یکساں نہیں رہتے

Urdu · 2 min read

سورہ آل عمران میں ایک صورت حال پر تبصرہ ہے۔پیغمبر اسلام کے ساتھیوں کو بدر کے مقابلہ میں اپنے مخالفین پرفتح حاصل ہوئی تھی ۔ اس کے بعد احد میں انہیں اپنے مخالفین سے شکست ہو گئی ۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہوا ہےإِنْ یَمْسَسْکُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِثْلُہُ وَتِلْکَ الْأَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیْنَ النَّاسِ (3:140)۔ یعنی، اگر تم کوکوئی زخم پہنچاہے تو دشمن کو بھی ویسا ہی زخم پہنچ چکا ہے۔ اور ہم ان ایا م کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی اس آیت میں قو موں کے بارے میںایک تاریخی قانون کو بیان کیا گیا ہے۔ اور وہ یہ کہ اس دنیا میں یہ ممکن نہیں کہ کوئی قوم ہمیشہ غالب رہے یا ہمیشہ فتح حاصل کرتی رہے ۔ اس بنا پر حالات ہمیشہ کسی ایک قوم کے موافق نہیں ہوتے ۔ حالات کافیصلہ کبھی ایک گروہ کے حق میں ہوتا ہے اور کبھی دوسرے گروہ کے حق میں ۔ ایسی حالت میں لوگوں کو چاہیے کہ وہ تاریخ کے فیصلہ کو قبول کریں۔ وہ شکایت اور احتجاج کے بجائے ازسر نواپنے عمل کی منصوبہ بندی کریں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کو مسابقت کے اصول پر بنا یا گیا ہے ۔ اس دنیا میں ہمیشہ ایک گروہ اور دوسرے گروہ کے درمیان مقابلہ جاری رہتا ہے۔ اس مقابلہ میں کبھی ایک گروہ کو جیت حاصل ہوتی ہے اور کبھی دوسرے گروہ کو۔ مقابلہ آرائی کایہ ماحول قوموں کو مسلسل طور پر بیداررکھتا ہے۔ اس کی وجہ سے ترقی کاعمل برابر جاری رہتا ہے۔

ایسی حالت میں حقیقت پسندی یہ ہے کہ ہارنے والے اور جیتنے والے دونوں اپنی ہار اور جیت کو وقتی سمجھیں ۔ نہ ہارنے والا پست ہمت ہو اور نہ جیتنے والا فخر وناز کی نفسیات میں مبتلا ہو جائے۔ اس معاملہ میں معتدل رویہ پرقائم رہنا گو یا قدرت کے فیصلہ کو تسلیم کرنا ہے۔ اس کے برعکس، معتدل رویہ سے ہٹنا گو یا قدرت کے فیصلہ پرراضی نہ ہونا ہے۔ مگر جو لوگ اس معاملہ میں قدرت کے فیصلہ پرراضی نہ ہوں وہ خود اپنا ہی نقصان کریں گے ، نہ کہ کسی اور کا۔

یہ معاملہ پوری طرح فطرت کے قانون کامعاملہ ہے۔ وہ کسی کے لیے اور کسی کی وجہ سے بدلنے والانہیں۔ ایسی حالت میں کوئی فریق اگر اس کو قبول نہ کرے تو اس کا یہ عدم قبول ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص یہ کہے مجھے پھول کے ساتھ کانٹا مطلوب نہیں یا کوئی شخص اس بات پر احتجاجی مہم چلائے کہ دنیا کے نظام کو اس طرح بدل جانا چاہیے کہ یہاں صرف میرے لیے موافق موسم ہو، اور جو موسم میرے خلاف ہو وہ کبھی زمین پر نہ آئے۔

عالمی نظام کے بارے میں اس قسم کی شکایت واحتجاج جتنی بے معنی ہے اتنا ہی بے معنی وہ شکایت واحتجاج بھی ہے جو سیاسی تبدیلی یاقوموں کے عروج وزوال پر کی جائے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content