Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Al-Risala March 2022
Al-Risala March 2022

اکثریت پر اقلیت کاغلبہ

Urdu · 3 min read

قرآن کی سورہ البقرہ میں ایک قدیم واقعہ کاذکر ہے ۔ اس کے تحت فطرت کے ایک ابدی قانون کوبتایا گیا ہے، ایک ایسا قانون جو کبھی بدلنے والانہیں۔ا س سلسلہ میں قرآن کی مذکورہ آیت کا ایک حصہ یہ ہے کَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِیلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً کَثِیرَةً بِإِذْنِ اللَّہِ وَاللَّہُ مَعَ الصَّابِرِینَ (2:249)۔ یعنی، کتنے ہی چھوٹے گروہ اللہ کے حکم سے بڑے گروہ پر غالب آئے ہیں۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی اس آیت میں چھوٹے گروہ اور بڑے گروہ کے درمیان پیش آنے والے جس واقعہ کو بتایا گیا ہے وہ کوئی پراسرار بات نہیں، وہ مکمل طور پر ایک فطری واقعہ ہے جو معلوم قانون کے تحت پیش آتا ہے ۔مزید یہ کہ اس کا تعلق ہر گروہ سے ہے، خواہ وہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی ۔ خواہ وہ ایک ملک کا رہنے والا ہو یا کسی دوسرے ملک کارہنے والا۔ خواہ وہ ایک زمانہ میں رہنے والا ہو یا کسی دوسرے زمانہ میں رہنے والا ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اصل یہ ہے کہ ہر انسان کے اندر پیدائشی طورپر اتھاہ صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ مگر ابتدائی طور پر یہ صلاحیت سوئی ہوئی ہوتی ہے۔ جو چیز اس صلاحیت کو جگاتی ہے وہ صرف ایک ہے ، اور وہ چیلنج کی حالت ہے، یعنی ایک دوسرے سے مسابقت (competition) کا چیلنج۔ اسی حالت کوقرآن میں عداوت(البقرۃ، 2:30؛الا عراف،7:24) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ چیلنج( یا عداوت) کے حالات آدمی کے اندر سوئی ہو ئی صلاحیتوںکوجگا تے ہیں۔ اور جن لوگوں کو چیلنج والے حالات پیش نہ آئیں ان کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتیں بیدارنہیں ہوتیں۔ وہ ایک کمترانسان کی مانند جیتے ہیں اور کمتر انسان کی مانند مرجاتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

چھوٹے گروہ اور بڑے گروہ کے درمیان فرق اسی فطری قانون کی بناپرپیش آتا ہے۔ کسی سماج میں جب ایک گروہ کم تعداد میں ہو اور دوسراگروہ زیادہ تعداد میں تو اس فرق کی بناپر دونوں کو الگ الگ حالات سے دو چار ہونا پڑتا ہے ۔ ایک کو صبر کی مشقت سے گذرنا پڑتا ہے اوردوسراصبر کی مشقت سے بچارہتاہے۔ چھوٹا گروہ مسلسل طور پر بڑے گروہ کے مقابلہ میں چیلنج کی حالت میں رہتا ہے۔ اس دبائو کی بناپر چھوٹے گروہ کے لوگوں کی صلاحیتیں مسلسل بیدار ہوتی رہتی ہیں ۔ اس کے مقابلہ میں دوسراگروہ اپنی برترپوزیشن کی بنا پر چیلنج یادبائو کی صورت حال سے بچاہوا ہوتا ہے ۔ اس لیے اس کی صلاحیتیں زیادہ بیدارنہیں ہوتیں۔

اس فرق کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ چھوٹے یا کمزور گروہ کی تخلیقیت(creativity) بڑھتی رہتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں دوسراگروہ مسلسل طور پر غیر تخلیقیت(uncreativity) کا شکار ہوجاتا ہے۔ یہ عمل خاموشی کے ساتھ اور مسلسل طورپرجاری رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آتا ہے، جب کہ ایک گروہ پورے معنوں میں تخلیقی گروہ(creative group) بن جاتا ہے، اور دوسراگروہ پورے معنوں میں غیر تخلیقی گروہ (uncreative group) کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔

قرآن کی یہ آیت ایک فطری حقیقت کو بتاتی ہے ۔ اس کامطلب یہ ہے کہ فئۃ قلیلۃ (غیر محفوظ گروہ) مسلسل اپنی اہلیت کو بڑھا تا رہتا ہے ۔ یہاں تک کہ وہ تعداد کی قلت کے باوجود اپنی برترصفات کی بنا پر عملاً غالب حیثیت حاصل کرلیتا ہے۔ اس کے برعکس، فئۃ کثیرۃ( محفوظ گروہ) مسلسل طور پر انحطاط کا شکار ہوتا رہتاہے۔ وہ باہمی اتحاد، گہر ی سوچ اور دور رس عمل جیسی صلاحیتیوں سے محروم ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ آخر کار اپنی ہی دنیا میں عملا ًمغلوب ہو کررہ جاتاہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

روزہ اس بات کا سبق ہے کہ کبھی ایک جائز چیز بھی ناجائز ہو جاتی ہے اور ایک مطلوب چیز بھی غیر مطلوب بن جاتی ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

اسلام یہ ہے کہ انسان خدا کی منع کی ہوئی چیزوں سے رک جائے۔روزہ ہر سال یہی سبق دینے کے لیے فرض کیا گیا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content