Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala March 2022
Al-Risala March 2022

قرآن کا آسان ہونا

Urdu · 2 min read

قرآن کے اسلوب کے بارے میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُدَّکِرٍ (54:17)۔یعنی اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کردیا ہے، تو کیا کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن وضوح (clarity) کی زبان میں ہے، قرآن باعتبار اسلوب ایسی زبان میں نہیں ہے، جس کا مفہوم سمجھنا انسان کے لیے مشکل ہو۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ قرآن میں اللہ رب العالمین کے بارے میں یہ آیت آئی ہے قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ (112:1) ۔ یعنی کہو ، اللہ ایک ہے۔ یہ وضوح کی ایک مثال ہے۔ یہ آیت کوئی شخص سنے تو وہ فوراً اس کا مطلب سمجھ لے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کے برعکس، اگرخدا کے بارے میںقرآن کی تعلیم تثلیث (trinity) کے تصور پر مبنی ہو تو سننے والے کو اس کا مطلب فوراً سمجھ میں نہیں آئے گا۔ مثلاً قرآن میں خدا کا تصور بتاتے ہوئے یہ کہا جائے کہ خدا کا تصورالتثلیث فی التوحید، والتوحید فی التثلیث پرمبنی ہے— جس کو انگریزی زبان میں تھری اِن ون، اینڈ ون اِن تھری (three in one, and one in three)کہا جاتا ہے — تو اس کو سمجھنے کے لیے قرآن کے قاری کو ایک مدت تک غور کرنا پڑے گا۔

اسی طرح عباسی دور میں مسلمانوں کے درمیان میں جو علم کلام پیدا ہوا، وہ پورا کا پورا ایسی زبان میں ہے، جس کے اندر کوئی وضوح (clarity) نہیں۔ مثلاً اللہ کے تعلق سے علم کلام کا ایک جملہ یہ ہےالقَوْل بِوُجُوب وجود مَوْجُود وجودہ لَہُ لذاتہ غیر مفتقر إِلَى مَا یسند وجودہ إِلَیْہِ (غایة المرام فی علم الکلام للآمدی، صفحہ 1)۔ یعنی اس کے وجود کے موجود ہونے کے وجود کا وجوب اس کی ذات ہے،کسی کی احتیاج کے بغیر، جس کی طرف اس کے وجود کا انحصار ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حقیقت یہ ہےکہ قرآن کا متن جب تیسیر (وضوح)کی زبان میں ہے، تو آپ کو اس کی تفسیر بھی تیسیر (وضوح) کی زبان میں کرنا چاہیے۔ یہ بات صحیح نہ ہوگی کہ اصل کلام تو تیسیر کی زبان میں ہو، اور اس کی تفسیر عدم وضوح کی زبان میں لکھی جائے۔وضوح (clarity) کی زبان سے مراد فطری اسلوب ہے، یعنی غیر پیچیدہ اسلوب یا مغلق اسلوب (complex style)۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content