Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala March 2020
Al-Risala March 2020

جمہوریت کا نظام

Urdu · 2 min read

جمہوریت (democracy) کے بارے میں اکثر لوگ منفی رائے رکھتے ہیں۔ اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ جمہوریت کا نظام ایک غلط نظام ہے۔ بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ لکھنے اور بولنے والے، جمہوریت کو غلط معیار (yardstick) سے ناپتے ہیں ۔ حالاں کہ جمہوریت کو ایک معیاری نظام قرار دے کر اس کو آٗئیڈیل سے ناپنا بجائے خود غلط ہے۔ حقیقت یہ ہےکہ جمہوریت ایک قابل عمل نظام ہے، نہ کہ آئیڈیل نظام۔

کسی سماج میں سیاسی نظام قائم کرنا، ایک ایسا کام ہے، جو کبھی آٗئیڈیل پیمانے پر نہیں ہوسکتا۔ آپ ایسا کرسکتے ہیں کہ آپ لوہے یا پتھر کا ایک پل (bridge) بنانے کے لیے اس کا ایک پیشگی نقشہ بنائیں، اور پھر ضروری سامان اکٹھا کرکے اپنے نقشے کے مطابق لوہے یا پتھر کا ایک پل بنائیں۔ لیکن یہ ناممکن ہے کہ آپ لوگوں کو مجبور کریں کہ وہ پل یا سڑک کے اوپر ہمیشہ ایک انداز سے سفر کریں، وہ کبھی اس سے گزرنے کے لیے غیر معیاری انداز اختیار نہ کریں۔ پل ہمیشہ مٹیریل کے ذریعے بنتا ہے، اور پل یا روڈ پر چلنے والے زندہ انسان ہوتے ہیں۔ آپ کوئی مادی عمارت مقررہ نقشے پر تعمیر کرسکتے ہیں ، لیکن زندہ انسان کا ایک واحد نقشہ بنانا ممکن نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت کا نظام پریکٹکل وزڈم (practical wisdom) کے اصول پربنتا ہے، نہ کہ آئیڈیل وزڈم(ideal wisdom) کے اصول پر۔ جو چیز پریکٹکل وزڈم پر بنائی جائے، اس کو آئیڈیل وزڈم کے معیار پر ناپنا اصولی طور پر ایک غلطی ہے۔ ایسی غلطی کبھی درست فیصلے تک پہنچانے والی نہیں۔

یہ دانش مندی ہے کہ جب آئیڈلزم (idealism)کا حصول ممکن نہ ہو، تو پریکٹکل وزڈم کے اصول پر زندگی کا نقشہ بنایا جائے۔ جو لوگ ایسا نہ کریں، وہ ہمیشہ ناقد بنے رہیں گے۔ وہ نہ کبھی مثبت رائے تک پہنچیں گے، اور نہ کبھی مثبت انجام تک۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.