Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala march 2017
Al-Risala march 2017

بڑھاپا آنے سے پہلے

Urdu · 2 min read

فطرت کے قانون کے مطابق، انسان اپنی عمر کے تقریبا چالیس سال تک بڑھاپے سے پہلے کے دور میں ہوتا ہے۔ چالیس سال کے بعد اس کے اوپر عملاً بڑھاپے کا دور شروع ہوجاتا ہے، جو قانون فطرت (law of nature) کے تحت کسی بھی وقت اُس کو اِس دنیا سےجدا کردینے والا ہے۔ کسی شاعر نے کہا ہے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سفینہ بنا رکھیں طوفاں سے پہلے

یہ اصول زیادہ بہتر طور پر انسان کی عمر کے معاملے میں چسپاں (apply) ہوتا ہے۔ یعنی ہر انسان کو چاہیے کہ بڑھاپے سے پہلے کے دورِ حیات میں وہ اپنے آپ کو آخرت کے لیے تیار کرلے۔ کیوں کہ بڑھاپے کے بعد کے دورِ حیات میں کسی کے لیے یہ موقع باقی نہیں رہتا کہ وہ آخرت کے لیے مطلوب قسم کی تیاری کرسکے۔

تاہم چالیس سال کے بعد کسی انسان کے لیے عمر کا جو دور آتا ہے، وہ اس کی زندگی کا بہترین حصہ ہوتا ہے۔ اس دور میں وہ زیادہ سنجیدہ ہوجاتا ہے۔ اس کے اندر پختگی (maturity) آجاتی ہے۔ اس کا ذہنی ارتقا (intellectual development) اپنی تکمیل کے دور میں پہنچ جاتا ہے۔ اس کو ایسے تجربات (experiences) حاصل ہوجاتے ہیں، جو اس کی صحیح طرز فکر کے لیے رہنما بن سکیں۔

چالیس سال کے بعد کسی انسان کی زندگی میں جو دور آتا ہے، وہ اس کے لیے آخرت کی تیاری کا بہترین دور ہوتا ہے۔ اب عملاً وہ فطری انسان (man cut to size)بن چکا ہوتا ہے۔ اب اس کے پاس زیادہ تیار ذہن (prepared mind)ہوتا ہے، جس کی روشنی میں وہ زیادہ درست طور پر اپنے مستقبل کا نقشہ بنا سکے۔چالیس سال کےبعد کی عمر میں زیادہ ممکن ہوجاتا ہے کہ آدمی بے خطا انداز میں اپنے آپ کو آخرت کے لیے تیار کرسکے— دانش مند وہ ہے جو اپنے اس حصۂ عمر کو استعمال کرے، اور غیر دانش مند وہ ہے جو اپنے اس حصۂ عمر کو استعمال کیے بغیرکھودے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content