Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala march 2017
Al-Risala march 2017

اعتماد علی اللہ

Urdu · 2 min read

خود اعتمادی یا الثقۃ بالنفس(self confidence) کی اصطلاح قرآن یا حدیث میں استعمال نہیں ہوئی ہے۔ اس کے بجائے قرآن و حدیث میں جو لفظ استعمال ہوا ہے، وہ توکل علی اللہ کا لفظ ہے۔ یہ فرق کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ ایک بے حد اہم فرق ہے۔ خود اعتمادی کا لفظ ایک ڈسپٹو (deceptive) لفظ ہے۔ اس سے سارا فوکس اپنی ذات پر چلاجاتا ہے، جس کا نتیجہ فخر (pride) ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر آپ توکل علی اللہ کا لفظ بولیں تو آپ کا سارا فوکس اللہ پر قائم رہے گا، اور اس کے نتیجے میں آپ کے اندر تواضع (modesty) پیدا ہوگی۔

غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ خود اعتمادی کا کام اصلاً صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ خود اعتمادی آپ کو پہلے قدم (first step) کی ہمت دیتا ہے۔ اس کے بعد سارا کام قوانین فطرت کے تحت انجام پاتا ہے، جو کہ خالق نے اس دنیا میں قائم کیا ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ کسی معاملے میں خود اعتمادی کا حصہ ایک فیصد ہے، اور قوانین فطرت کا حصہ ننانوے فیصد۔

خود اعتمادی بظاہر ایک اچھی صفت ہے، لیکن اجتماعی زندگی میں وہ اکثر مسئلہ پیدا کرنےکا سبب بن جاتی ہے۔ جس آدمی کے اندر خود اعتمادی ہو، وہ اکثر شعوری یا غیر شعوری طور پریہ سمجھ لیتا ہے کہ کام جو ہوا ہے، وہ صرف اس کی وجہ سے ہوا ہے۔ اس بنا پر وہ چاہنے لگتا ہے کہ کام کا سارا کریڈٹ صرف اس کو ملے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اجتماعیت کا ایک پرابلم ممبر بن جاتا ہے۔ وہ جب دیکھتا ہے کہ اس کو سارا کریڈٹ نہیں مل رہا ہے تو وہ منفی سوچ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ وہ اس قابل نہیں رہتا کہ اجتماعی زندگی میںجو رول اس کو ادا کرنا تھا، اس رول کو وہ بخوبی طور پر ادا کرسکے۔اس کے برعکس، توکل علی اللہ یا اعتماد علی اللہ کی نفسیات سے انسان کے اندر ہر قسم کے مثبت اوصاف (positive qualities) پیدا ہوتی ہیں۔ وہ اجتماعی زندگی کا ایک صحت مند ممبر بن جاتا ہے۔ وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ اجتماعی زندگی میں اپنے مطلوب رول کو بخوبی طور پر ادا کرسکے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.