Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Al-Risala March 2016
Al-Risala March 2016

حقیقت پسندی، معیار پسندی

Urdu · 1 min read

ایک دانش مند نے داخلی حکمت اور خارجی حکمت کو بتاتے ہوئے کہاہے— دوسروں کے بارے میں جاننا، دانش مندی ہے۔ اور اپنے بارے میں جاننا، ذہنی بیداری:

other sourceWords of another person or source

Knowing others is wisdom; knowing the self is enlightenment.

موجودہ دنیا میں ہر آدمی کے لیے دو قسم کی تیاری درکار ہوتی ہے، اپنے اعتبار سے اور دوسروں کے اعتبار سے۔ یہ دونوں ہی تیاری یکساں طورپر ضروری ہے۔ کسی ایک میں تیار ہونا اور دوسرے میں تیار نہ ہونا، آدمی کے لیے کافی نہیں۔

دوسروں کے بارے میں دانش مندی یہ ہے کہ آدمی دوسروں سے وہی امید کرے جو باعتبار حقیقت ممکن ہے۔اِس معاملے میں ضرورت سے زیادہ امید (over-expectation) ہمیشہ نقصان کا باعث ہوتا ہے۔ دوسروں کے بارے میں امید قائم کرتے ہوئے آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے جذبات کو پوری طرح الگ رکھے اور صرف امرِ واقعہ کی بنیاد پر امید قائم کرے۔

جہاں تک اپنی ذات کا تعلق ہے، اِس معاملے میں آدمی کو چاہیے کہ وہ آخری امکان تک جائے۔ وہ آخری حد تک اپنے آپ کو دریافت کرے، وہ آخری حد تک اپنے آپ کو استعمال کرنے کی کوشش کرے، دوسروں کے معاملے میں حقیقت پسندی (realism)مطلوب ہے، اور اپنے معاملے میں معیار پسندی(idealism) ۔

ایک صاحب کو مشورہ دیتے ہوئے میں نے کہا— اپنے گھر کے اندر آپ آیڈیلسٹ (idealist) بنئے، اور گھر سے باہر نکلتے ہی پریکٹکل (practical) بن جائیے۔

اِن دو طرفہ تقاضوں کو نبھانا، ایک مشکل کام ہے۔ اِس دنیا میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو اِن دو طرفہ تقاضوں کو نبھائیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ دوسروں کے معاملے میں حقیقت پسند (realist) ہو اور اپنے معاملے میں معیار پسند(idealist)۔ جس آدمی کے اندر اِس کے برعکس مزاج ہو، وہ اِس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content