Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala March 2016
Al-Risala March 2016

حاضر دماغی

Urdu · 2 min read

ایم کے گاندھی (وفات1948)انڈیا کے مشہور پولیٹکل لیڈر تھے۔ ان کا ایک واقعہ اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ ایک بار وہ ٹرین میں سفر کر رہے تھے۔ اسٹیشن پر جب وہ ٹرین میں سوار ہوئے تو چلتی ہوئی گاڑی میں ان کا ایک جوتا پاؤں سے نکل کر نیچے گرگیا۔ جوتا چلتی ہوئی ٹرین کے نیچے چلا گیا۔گاندھی نے اس وقت یہ کیا کہ اپنا دوسرا جوتا بھی پاؤں سے نکال کر نیچے گرادیا۔ کسی نے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا۔ گاندھی نے جواب دیا کہ اب وہ جوتا میرے کام کا نہیں تھا، میں نے اس لیے گرادیا کہ جو شخص اس کو پائے ، اس کو دونوں جوتا مل جائے۔ اس طرح وہ جوتے کو اپنے لیے قابلِ استعمال بنا لے گا۔

جوتا جوڑے کی شکل میں کار آمدہوتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا کہ ایک جوتا گاندھی کے پاس رہتا ، اور دوسرا جوتا کسی پانے والے کے پاس تو وہ جوتا دونوں ہی کے لیے ناقابلِ استعمال ہوجاتا۔ اب جوتا کم از کم ایک شخص کے کام آجائے گا۔ اگر گاندھی دوسرے جوتے کو پاؤں سے نکال کر نہ گراتے تو وہ جوتا نہ گاندھی کے کام کا ہوتا ،نہ کسی دوسرے کے کام کا۔

اس طرح کا موقع ایک بحران (crises) کا موقع ہوتا ہے۔ اکثر لوگ ایسے موقع پر پریشان ہوجاتے ہیں۔اس طرح ان کی محرومی صرف محرومی بن کر رہ جاتی ہے۔ ہر محرومی کے بعد ایک امکان باقی رہتا ہے۔ اگر آدمی حاضر دماغی سے کام لے تو وہ اس آخری موقع کو استعمال کرنے کے قابل ہوجائے گا۔

حاضر دماغی (presence of mind) کا تعلق ہر معاملے سے ہے۔ چھوٹے معاملے سے بھی اور بڑے معاملے سے بھی، گھر کے معاملے سے بھی اور گھر کے باہر کے معاملے سے بھی، انفرادی معاملے سے بھی اوراجتماعی معاملے سے بھی۔ آدمی اگر حاضر دماغی سے کام لے تو وہ ہر نقصان میں فائدہ کا ایک پہلو دریافت کرلے گا، وہ ہر کھونے کو اپنے لیے ایک پانا بنا لےگا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.