Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala March 2016
Al-Risala March 2016

تخلیقی صلاحیت

Urdu · 2 min read

موجودہ زمانے میں ایک رسرچ اقلیت (minority) اور اکثریت (majority)کے موضوع پر ہوئی ہے۔ اِس تحقیق سے کئی ایسی حقیقتیں سامنے آئی ہیں جو اِس سے پہلے لوگوں کو معلوم نہ تھیں۔ اُن میں سے ایک حقیقت وہ ہے جس کو تخلیقیت (creativity) کہاجاتا ہے، یعنی حالات کے زیر اثر آدمی کے اندر نئی فکری یا عملی خصوصیات کا پیدا ہونا:

Creativity: The ability to produce something new

اصل یہ ہے کہ جب کسی سماج میں دو گروپ ہوں— اقلیتی گروپ، اور اکثریتی گروپ، تو فطری قانون کے مطابق، وہاں چیلنج کا ماحول پیدا ہوجاتا ہے۔ اِس چیلنج کے نتیجے میں وہاں ایک خاموش عمل (process) جاری ہوتا ہے۔ وہ عمل ہے— اقلیتی گروہ کی تخلیقی صلاحیت کو بڑھانا، اقلیتی گروہ کے اندر طاقت ور داعیہ (incentive) پیدا کرکے اس کو مسلسل ترقی کی طرف لے جانا۔

یہ عمل ہر اُس ملک میں دیکھا جاسکتا ہے، جہاں اقلیت اور اکثریت دونوں قسم کے گروہ موجود ہوں۔ ایسے ماحول میں، اقلیتی گروہ کے اندر تخلیقی صلاحیت پیدا کرنے کا عمل ہر حال میں جاری ہوتا ہے، خواہ اُس کے لیے کوئی براہِ راست کوشش کی گئی ہو، یا نہ کی گئی ہو۔فطرت کے عمل (process) کو اگر روکا نہ جائے تو وہ اپنے آپ جاری ہوتا ہے، اور اپنے آخری انجام تک پہنچتا ہے۔

تخلیقیت (creativity) کے اِس عمل کو روکنے والی چیز صرف ایک ہے، اور وہ ہے اقلیتی گروہ کے اندر متشددانہ مزاج کا پیدا ہونا۔ اقلیتی گروہ کے اندر اگر ایسے ناعاقبت اندیش رہ نما پیدا ہوجائیں جو اپنی جذباتی تقریروں اور تحریروں کے ذریعے لوگوں کے اندر منفی ذہن (negative thinking) پیدا کرکے اُن کو نفرت اور تشدد کے راستے پر ڈال دیں تو یقینا یہ عمل رک جائے گا۔ بہ صورتِ دیگر، یہ عمل کسی حالت میں رکنے والا نہیں۔ یہ فطرت کا فیصلہ ہے۔ اور فطرت کے فیصلے کو خود کُشی (suicide) کے سوا کوئی اور چیز روکنے والی نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.