Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala March 2016
Al-Risala March 2016

بلندفکری

Urdu · 2 min read

موجودہ دنیا میں آدمی ہر وقت اپنے قریبی حالات میں گھرا رہتا ہے۔ ایسی صورت میں صحیح سوچ کا مالک صرف وہ شخص بنے گا جو اپنے اندر بلند فکری (high thinking) کی صفت پیدا کرے، وہ اپنے قریبی حالات سے اوپر اٹھ کر سوچے، وہ غیر متاثر ذہن کے تحت معاملات پر رائے قائم کرے۔ اِس طرزِ فکر کا فارمولا صرف ایک ہے— اپنی سطح سے اوپر اٹھ کر سوچنا:

To think beyond the limit

آدمی ہمیشہ کچھ لوگوں کے درمیان زندگی گزارتا ہے۔ لوگوں کی طرف سے اس کو بار بار ناخوش گوار قسم کے تجربات پیش آتے ہیں۔ اِن ناخوش گوار تجربات کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ اس کے اندر بطور ردّ عمل طرح طرح کے غیر حقیقی جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ مثلاً غصہ، حسد، نفرت، انتقام، احساسِ برتری، یا احساسِ کم تری، وغیرہ۔ ہر آدمی اِسی قسم کے منفی احساسات کے درمیان زندگی گزارتا ہے۔ یہ احساسات جو ہمیشہ رد عمل کی نفسیات کے تحت پیدا ہوتے ہیں، وہ انسان کو غیر حقیقت پسندانہ سوچ میں مبتلا کردیتے ہیں۔وہ فطرت کے مقرر راستے سے ہٹ کر غیر فطری راستے پر چلنے لگتا ہے۔

اِس دنیا میں کامیابی کا طریقہ صرف یہ ہے کہ آدمی اپنے حالات سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے، وہ متاثر ذہن کے تحت کوئی فیصلہ نہ کرے۔ وہ اپنے اندر وہ چیز پیدا کرے جس کو غیر متعصبانہ ذہن، یا تخلیقی فکر (creative thinking) کہاجاتاہے۔ ایسا ہی انسان اِس دنیا میں درست انداز میں سوچے گا اور اپنے عمل کی درست منصوبہ بندی کرے گا اورآخر کار کامیابی کی منزل تک پہنچے گا۔

بلند فکری کسی انسان کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے۔ بلند فکری میں جو چیز سب سے بڑی رکاوٹ ہے، وہ ڈسٹریکشن (distraction) ہے، یعنی ذہن کا مختلف سمتوں میں منتشر ہوجانا۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کوہر قسم کے ذہنی انتشار سے بچائے، تاکہ وہ اپنے اندر صحتِ فکر کو قائم رکھ سکے۔ یہ دراصل صحتِ فکر ہی ہے جو انسان کو حیوان سے ممیز کرتی ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.