پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول کا زمانہ تھا- تاریخ بتاتی ہے کہ رسول اور اصحابِ رسول کے ساتھ دو قسم کے واقعات پیش آئے- ایک یہ کہ مخالفین کی جارحیت (aggression) کی بنا پر قتال، اور دوسری چیز ہے مخالفین کی طرف سے مظالم کا ارتکاب- قرآن کا مطالعہ بتاتا ہے کہ قرآن میں قتال کے واقعات کا ذکر تو موجود ہے لیکن جہاں تک مخالفین کے مظالم کا تعلق ہے وہ تقریباً غیر مذکور واقعات (unreported events) بنے ہوئے ہیں- مظالم کے واقعات ہم کو تاریخ کی کتابوں سے معلوم ہوتے ہیں، قرآن سے نہیں-
اس فرق کا سبب یہ ہے کہ قرآن میں قتال کی آیتیں امت کے تاریخی کردار (historical role) کو بتانے کے لئے ہیں- وہ امت کے مستقل مشن (permanent mission) کو بتانے کے لئے نہیں ہیں- امت کا مستقل مشن پرامن دعوت الی اللہ ہے- قدیم عرب میں قتال کا واقعہ وقتی ضرورت کے تحت اس لئے پیش آیا کہ جبر کے دور (despotic rule) کو ختم کرکے دنیا میں آزادی کا دور لایا جائے تاکہ انسان کو جو کرنا ہے، اس کو وہ آزادانہ طور پر کرسکے- قرآن میں اس واقعے کو ختم فتنہ (2:193، 8:39) کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے-
قدیم عرب میں رسول اور اصحاب رسو ل کے ساتھ ظلم کے بڑے بڑے واقعات پیش آئے، مگر قرآن میں صراحتاً ان کا ذکر موجود نہیں- البتہ صبر یا اس کے ہم معنی الفاظ کی آیتیں قرآن میں کثرت سے موجود ہیں- اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ دوسروں کے مظالم پر شکایت اور احتجاج کیا جائے ، اس کے بجائے قرآن یہ چاہتا ہے کہ اہلِ اسلام اس قسم کی باتوں پر صبر وتحمل کا طریقہ اختیار کریں- صبر وتحمل کا طریقہ کوئی انفعالی (passive) طریقہ نہیں- صبر وتحمل ایک اعلی درجہ کی ایجابی صفت ہے- صبر وتحمل کا مطلب یہ ہے کہ اپنے آپ کو آخری حد تک منفی سوچ (negative thinking) سے بچانا، اپنی پوری توانائی (energy) کو تعمیری مقصد کے لئے صرف کرنا-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔